ُُُسانحہ لِبرٹی کے بعد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے باسی اپنے شہر میں سری لنکا ٹیم پر حملے پر دُکھی ہیں لیکن اس بات پر انہیں فخر ہے کہ ان کے شہر کے پولیس اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کردیں لیکن مہمان کرکٹروں کی زندگیاں بچالی ہیں۔ لاہور میں معمولات زندگی بحال ہوگئے ہیں البتہ لبرٹی چوک اور اس کے ارد گرد بدھ کو کاروباری سرگرمیاں ذرا مانند رہی ہیں۔گلبرگ مارکیٹ کے ایک تاجر شہزاد اقبال کا کہناہے کہ کل تو لوگ خوف اور صدمے میں تھے لیکن آج بیشتر دکانیں کھول دی گئی ہیں لیکن گاہک نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ رش اس مقام پر ہے جہاں ٹریفک وارڈن تنویر اقبال کی تصویر رکھی گئی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے اس نے اپنی جان قربان کی تھی۔ تنویر اقبال سری لنکن ٹیم کی بس کو اسکارٹ کر رہے تھے جب انہیں گولی لگی۔
لوگ اس کی تصویر پر پھول چڑھا رہے ہیں اور ہاتھ اٹھا کر اس کی مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔ سکول کے بچے بھی اپنے بستے اٹھائے آتے ہیں اور کچھ دیر تصویر کے سامنے کھڑے رہ کر چلے جاتے ہیں۔ بس ڈرائیور مہر خلیل کا کہنا ہے کہ وہ بس کو نکال لے جانے میں صرف اس لیے کامیاب ہوئے کہ پولیس کی ایک گاڑی کے جوانوں نے بس کے سامنے کھڑے ہوکر شدت پسندوں پر فائرنگ کی اور انہیں روکے رکھا اور خود ایک ایک کر کے مر گئے لیکن بس کے لیے راستہ بنا گئے۔ مہر خلیل کا کہنا ہے کہ پھر جب وہ بس کو تیز رفتاری سے لے جانے لگے تو ایک ٹریفک وارڈن نے برستی گولیوں اور بموں کے دھماکوں کے باوجود آگے بڑھ کر خاردار تاروں کا بیریئر ہٹایا اور مہمانوں سے بھری بس کو نکلنے کا موقع دیا۔ سری لنکا ٹیم کو بچانے والے اس بس ڈرائیور کو تا دم تحریر کسی حکومتی شخصیت نے کوئی انعام دیا نہ میڈل سے نوازا لیکن وہ اس بات پر خوش ہیں کہ سری لنکا کی ٹیم نے ان سے ملے بغیر پاکستان کی سرزمین چھوڑنے سے انکار کردیا تھا اور پھر جہاز میں سوار ہونے کےآخری لمحے تک انہیں اپنے ساتھ رکھا۔ مرلی دھرن نے انہیں اپنی ایک آٹوگراف کی ہوئی شرٹ اور ایک نقد رقم والا لفافہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے لیے یہی اعزاز کافی ہے کہ میں پاکستانی ہوں اور میں نے اپنے وطن کے مہمانوں کی جان بچائی۔ لاہور کے شہریوں کی بڑی تعداد کو اگرچہ اس بات کا شبہ ہے کہ یہ واقعہ ممبئی حملوں کا رد عمل ہوسکتا ہے۔ میڈیا پر ایسے عینی شاہدوں کے انٹرویو نشر کیے ہیں جنہوں نے کہا کہ حملہ آور ایسی صاف اردو بول رہے تھے جیسے انڈیا میں بولی جاتی ہے اور ایک شخص پشتو لہجے میں بھی بات کررہا تھا لیکن شہری حلقوں میں خاص گروہ کے بارے میں انگلی اٹھائی جارہی ہے نہ ہندوستان کو عوامی نفرت کا مرکز بنایا گیاہے۔ لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے اسے زندہ دلوں کا شہر کہتے ہیں یہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہوتے ہیں اور ہنسی خوشی کے تہوار دیوانگی کی حد تک مناتے ہیں۔ لاہور کے شہریوں سب سے زیادہ دو ہی کھیلوں یعنی پتنگ بازی اور کرکٹ کے شوقین تھے ایک ان کی اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے پابندی کا شکار ہوگیا اور دوسرے کو شدت پسندوں نے ان سے دور کردیا۔ لاہور کے شہری سری لنکا ٹیم کے حوصلے کی داد دیتے بھی دکھائی دیتے ہیں خاص طورپر ان کے دلوں میں سری لنکا کے لیے قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ انہیں اس بات کا مکمل احساس ہے کہ سری لنکاکی ٹیم نے ایسے حالات میں پاکستان آنے کی فیصلہ کیا جب آسٹریلیا اور انڈیا کی ٹیموں نے انکار کردیا تھا۔ لاہور کے شہریوں نے اس بات کو بھی محسوس کیا ہے کہ قاتلانہ حملہ کے بعد بھی اس ملک کے کھلاڑیوں نے پاکستان کے دورے پر ندامت ظاہر نہیں کی بلکہ سری لنکا حکومت نے پاکستان کےعوام سے یک جہتی کا بیان دیا۔ تاجر شہزاد اقبال کہتے ہیں شکر ہے کہ ہمارے مہمانوں کی زندگیاں بچ گئیں اور ہم ان پولیس والوں کو نہیں بھول سکتے جنہوں نے مہمان کرکٹروں پر اپنی جانیں نچھاور کردیں۔ چوک میں رکھی گئی مقتول ٹریفک وارڈن کی تصویر کے اوپر لکھا ہے کہ ’پاک سری لنکا دوستی کو سلام‘ اور نیچے لکھا ہے: |
اسی بارے میں لاہور:حملہ آوروں کی تلاش جاری،انعام کا اعلان04 March, 2009 | پاکستان ’نشانہ براہِ راست کھلاڑی تھے‘03 March, 2009 | پاکستان ’گورنر راج سے سکیورٹی درہم برہم‘03 March, 2009 | پاکستان سری لنکن ٹیم کولمبو میں، تحقیقات جاری03 March, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||