BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 March, 2009, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملے سے اعتماد بکھرگیا:وزیرِ کھیل

پیر آفتاب جیلانی
’اعتماد کو بحال ہونے میں وقت لگے گا‘
پاکستان کے وفاقی وزیر کھیل پیر آفتاب شاہ جیلانی نے اعتراف کیا ہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورے سے جو اعتماد بحال ہورہا تھا وہ بکھر گیا ہے اور اس واقعہ نے ورلڈ کپ کی میزبانی پر بھی سوالیہ نشان لگادیا ہے۔

منگل کو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کو دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں اس کے چند کرکٹرز زخمی اور اس کی حفاظت پر مامور کم سے کم چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

پیر آفتاب شاہ جیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے انکار کرتی رہی ہیں سری لنکا کی ٹیم نے خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا دورہ کیا اور اس کے ساتھ ہونے والی یہ دہشت گردی قابل مذمت ہے۔

سوالیہ نشان
 اس دہشت گردی سے دوسال بعد برصغیر میں ورلڈ کپ کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے تاہم اس ضمن میں جلد بازی میں کیا گیا کوئی بھی فیصلہ نقصان دہ ہوگا۔
وفاقی وزیر کھیل
انہوں نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان سے دنیا کو یہ پیغام دیا جارہا تھا کہ یہاں غیرملکی ٹیموں کو کوئی خطرہ نہیں اور وہ یہاں آکر کھیلیں لیکن اس واقعہ سے یہ اعتماد متاثر ہوا ہے۔ ان کے بقول اس اعتماد کو دوبارہ بحال ہونے میں وقت لگے گا اور پوری قوم کو صبروتحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر کھیل نے کہا کہ اس دہشت گردی سے دوسال بعد برصغیر میں ورلڈ کپ کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے تاہم اس ضمن میں جلد بازی میں کیا گیا کوئی بھی فیصلہ نقصان دہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جہاں آئی سی سی کو ہمیں وقت دینا ہوگا وہیں ہمیں بھی اپنے معاملات درست کرنےہونگے۔ تاہم فی الحال انہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس وقت سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

پیر آفتاب شاہ جیلانی نے کہا کہ یہ پاکستان اور پاکستانی کرکٹ کے لئے بہت مشکل دور ہے، فی الحال اس مسئلے کا کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ ایک مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے اس مشکل سے نکلا جاسکتا ہے۔

 لاہور میں ٹیم پر حملہسکیورٹی کے خدشات
غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے بچتی رہی ہیں
دو حملہ آورنشانہ: سری لنکن ٹیم
حملے کے بارے میں عینی شاہدین نے کیا کچھ بتایا
حملہ آورلاہور میں حملہ
سری لنکن کرکٹرز پر حملے کے بعد کی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد