حملے سے اعتماد بکھرگیا:وزیرِ کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی وزیر کھیل پیر آفتاب شاہ جیلانی نے اعتراف کیا ہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورے سے جو اعتماد بحال ہورہا تھا وہ بکھر گیا ہے اور اس واقعہ نے ورلڈ کپ کی میزبانی پر بھی سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ منگل کو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کو دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں اس کے چند کرکٹرز زخمی اور اس کی حفاظت پر مامور کم سے کم چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔ پیر آفتاب شاہ جیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے انکار کرتی رہی ہیں سری لنکا کی ٹیم نے خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا دورہ کیا اور اس کے ساتھ ہونے والی یہ دہشت گردی قابل مذمت ہے۔
وفاقی وزیر کھیل نے کہا کہ اس دہشت گردی سے دوسال بعد برصغیر میں ورلڈ کپ کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے تاہم اس ضمن میں جلد بازی میں کیا گیا کوئی بھی فیصلہ نقصان دہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جہاں آئی سی سی کو ہمیں وقت دینا ہوگا وہیں ہمیں بھی اپنے معاملات درست کرنےہونگے۔ تاہم فی الحال انہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس وقت سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ پیر آفتاب شاہ جیلانی نے کہا کہ یہ پاکستان اور پاکستانی کرکٹ کے لئے بہت مشکل دور ہے، فی الحال اس مسئلے کا کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ ایک مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے اس مشکل سے نکلا جاسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں لنکن ٹیم پر حملہ، 6 کھلاڑی زخمی، چھ پولیس اہلکار ہلاک03 March, 2009 | پاکستان ’پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش‘03 March, 2009 | پاکستان حملہ آور کون اور مقصد کیا ہے ؟ 03 March, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||