’قدیر سے تعلق‘، کمپنیوں پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے ان افراد اور کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے جن کا پاکستان کے جوہری سائنسدان عبدالقدیر خان سے کسی بھی طرح کا تعلق ہے۔ امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ تیرہ افراد اور تین کمپنیوں پر لگائی جانے والی پابندی کی وجہ ان کی ڈاکٹر قدیر خان کی جوہری ٹیکنالوجی کی مبینہ ناجائز تجارت میں’شمولیت‘ تھی۔ محکمۂ خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ان پابندیوں سے مستقبل میں جوہری ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملے گی۔ محکمۂ خارجہ کے بیان کے مطابق ’اگرچہ ہمیں یقین ہے کہ ڈاکٹر قدیر کا نیٹ ورک اب فعال نہیں ہے لیکن ملکوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک میں شامل لوگ یا پھر ایسے لوگ جو جوہری ٹیکنالوجی کی غیر قانونی منتقلی کا ارادہ رکھتے ہیں، مستقبل میں حساس جوہری معلومات یا آلات کی فراہمی کا ذریعہ نہ بن سکیں‘۔ ڈاکٹر قدیر خان نے سنہ دو ہزار چار میں تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے دوسرے ممالک کو جوہری راز فروخت کیے ہیں۔اس اعتراف کے بعد اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے انہیں معاف کر دیا تھا اور ڈاکٹر قدیر تب سے اب تک اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ |
اسی بارے میں ’نظر بندی کے ساتھ زباں بندی‘21 July, 2008 | پاکستان ’ایٹمی سائنسدان فوجی ٹارگٹ ہے‘ 15 July, 2008 | پاکستان ڈاکٹر قدیر کے الزام کی تردید05 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||