BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوپولیس اہلکار پولیس ریمانڈ میں

کراچی پولیس فائل فوٹو
مقدمے کے تین ملزمان اب بھی مفرور ہیں
کراچی کی ایک عدالت نے بلوچستان کے چار تاجروں کو مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار دو پولیس اہلکاروں کو پولیس ریمانڈ میں دیدیا ہے۔

پولیس نے اینٹی کار لفٹنگ سیل تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر ملک ارشاد اور ان کے ماتحت پولیس کانسٹیبل ظفر کو پیر کو مقامی عدالت کے سامنے پیش کیا جس کے بعد عدالت نے ملزمان کو انیس جنوری تک ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا۔ مقدمے کے تین ملزمان اب بھی مفرور ہیں۔

یہ واقعہ تیس دسمبر کی رات کراچی کے خالد بن ولید روڈ پر پیش آیا تھا جس میں اینٹی کار لفٹنگ سیل کے عملے کی فائرنگ سے چار تاجر حاجی محمد طاہر اچکزئی، عبیداللہ خان ترین، محمد ابراہیم اچکزئی اور زین الدین خان اچکزئی ہلاک ہوگئے تھے۔ان چاروں کا تعلق بلوچستان کے علاقے چمن سے تھا۔

پولیس نے پہلے دعوی کیا تھا کہ ہلاک ہونے والے چاروں افراد ڈاکو ہیں تاہم بعد میں ہونے والی محکماتی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ واقعہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔

پولیس نے تحقیقات کی روشنی میں مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کے خلاف قتل خطا کا مقدمہ درج کیا تھا جس میں جرم ثابت ہونے پر دیت کی ادائیگی سمیت زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

تاہم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے واقعہ کا ازخود نوٹس لیا اور ملوث اہلکاروں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل عمد کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

جس کی تعمیل کرتے ہوئے پولیس نے ایک مقتول زین الدین کے والد حاجی لالا خان کی مدعیت میں انسپکٹر ملک ارشاد اور ان کے چار ماتحتوں کے خلاف قتِل عمد کا مقدمہ داخل کیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کرنے والے ایس پی انویسٹیگیشن ساؤتھ نیاز احمد کھوسو نے بتایا کہ انسپکٹر ملک ارشاد نے رضاکارانہ طور پر اپنی گرفتاری پیش کی تھی جبکہ مقدمہ میں نامزد دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

سپریم کورٹ میں اس معاملے کے از خود نوٹس کی سماعت سولہ جنوری کو ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد