BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 August, 2008, 14:24 GMT 19:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس ریکارڈ تک عام شہریوں کی رسائی

لاہور کے سٹی پولیس چیف پرویز راٹھور
ہماری پولیس ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک کےمقابلے میں بہت پسماندہ ہے:راٹھور
پنجاب پولیس نے عام شہریوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی تھانے میں درج ہونے والی ایف آئی آر یعنی ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ تک رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور پہلے مرحلے پر لاہور پولیس کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کیا جارہا ہے۔

لاہور کے سٹی پولیس چیف پرویز راٹھور نے بی بی سی کو بتایا کہ جلدی ہی عام شہری تھانے کا نام اور ایف آئی آر کا نمبر درج کرنے کے بعد نہ صرف ایف آئی آر دیکھ سکے گا بلکہ اس کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ بھی ہو سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے نظام پر بھی غورکیا جارہا ہے کہ عام شہری انٹرنیٹ پر جرائم کی اطلاع دے سکیں جو بعد میں ایف آئی آر میں تبدیل ہوسکے گی۔

پنجاب پولیس کے ایک صدی سے زیادہ پرانے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے ایک سنئیر پولیس افسر فواد الدین قریشی کی سربراہی میں ایک یونٹ قائم ہے جو مجرموں کے ریکارڈ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر منسلک کرنے کے منصوبہ پر کام کر رہے ہیں۔

لاہور پولیس کو اس سلسلے میں ایک ماڈل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سٹی پولیس چیف نے کہا کہ مجرم کے موبائل فون کے ذریعے اس تک پہنچنے کی ٹیکنالوجی کا کامیابی سی استعمال شروع ہوگیا ہے لیکن ایسے سکینر ابھی تک صرف ملٹری انٹیلجنس اور آئی ایس آئی کے پاس ہیں۔

 پاکستان کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو چند ماہ کے اندر جرائم میں اضافے کا سبب بنے گا
ماہرین

انہوں نے امید ظاہر کی کہ لاہور پولیس بھی کسی نہ کسی سٹیج پر ایسے سکینر حاصل کرلے گی جس سے زیادہ تیزی سے کام ہوسکے گا۔

ماہرین کا کہناہے کہ پاکستان کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو چند ماہ کے اندر جرائم میں اضافے کا سبب بنے گا۔

پنجاب پولیس کےبارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ تشدد کے ذریعے مجرموں تک پہنچنے میں مہارت رکھتی ہے البتہ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ اب ٹیکنالوجی کا استعمال بتدریج بڑھ رہا ہے۔

پولیس کاروباری اداروں اور دکانداروں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ سیکورٹی کیمرے نصب کرائیں۔پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد سیکیورٹی آلات کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق صرف لاہور میں پانچ ہزار ایسی دکانیں، دفاتر، کاروباری ادارے یا گھر ہیں جنہوں نے کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے نصب کروارکھے ہیں اور ان میں روزانہ کی بنیادوں پر اضافہ ہورہا ہے۔

لاہور کے علاقے مغلپورہ میں ڈکیتی کے دوران قتل ہونے والے ایک زرگر کے ملزم صرف تین روز پہلے نصب ہونے والے خفیہ کیمرے کی وجہ سے گرفتار ہوئے اور اس دوران ان میں سےایک مبینہ مقابلے میں مارا گیا۔

 اب ملزموں کے خاکے بنانے کے لیے کاغذ پنسل کی بجائے کمپیوٹر کا استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ جیل جانے والے ملزموں کی تصویریں اور فنگر پرنٹس کو بھی کمپیوٹر پر تلاش کیا جاسکے گا
پولیس چیف پرویز راٹھور

سٹی پولیس چیف پرویز راٹھورکہتے ہیں ’اگرچہ کیمرہ زرگر کو قتل ہونےسے تو نہ بچا سکا لیکن اس نے ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔جرائم کے انسداد کے لیے سزا کا تصور راسخ کرنا ضروری ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اب ملزموں کے خاکے بنانے کے لیے کاغذ پنسل کی بجائے کمپیوٹر کا استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ جیل جانے والے ملزموں کی تصویریں اور فنگر پرنٹس کو بھی کمپیوٹر پر تلاش کیا جاسکے گا‘۔

اس کے علاوہ ٹریفک چالان کا بھی ایسا نظام وضع کیا جارہا ہے جس کے تحت قومی شناختی کارڈ کے نمبر کے ذریعے یہ معلوم ہوسکے گا کہ ڈرائیور کتنے چالان کرواچکا ہے اور اس بنیاد پر اس سزا میں اضافہ کیا جاسکے گا۔

کار چوری کے انسداد کے لیے تمام اضلاع اور صوبوں کی چوری شدہ کاروں کا ریکارڈ انٹر لنک کیا جارہا ہے۔

لاہور کے سٹی پولیس چیف پرویز راٹھور کہتے ہیں کہ ان تمام اقدامات کےباوجود وہ یہ سمجتھے ہیں کہ پولیس ابھی بھی ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت پسماندہ ہے اور بہت کچھ کرنے کو باقی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد