BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 May, 2008, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وائٹ کارڈز:پلاسٹک منی فراڈ کا سب سے بڑا ذریعہ

کریڈٹ کارڈ
’فراڈ روکنے کے لیے محکمے کے پاس مطلوبہ سہولتیں موجود نہیں‘
پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں مبینہ طور پر سمگل ہو کر آنے والے’وائٹ کارڈز‘ پاکستان میں پلاسٹک منی فراڈ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

یہ وائٹ یا سفید کارڈ جنہیں بعد میں جعلی کریڈٹ کارڈز میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، چین، اٹلی، جنوبی افریقہ، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی مارکیٹوں میں دستیاب ہیں اور انہیں وہاں سے کسی روک ٹوک کے بغیر پاکستان لایا جارہا ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے آپریشنل انچارج اظہر محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ وائٹ کارڈز سب سے زیادہ تعداد میں چین سے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیکرز یہ کارڈز محدود تعداد میں اپنے ذاتی سامان میں رکھ کر لے آتے ہیں کیونکہ ان کارڈز کو سکینر مشین میں چیک نہیں کیا جا سکتا۔

محمد اظہر نے بتایا کہ بڑی کمپنیاں بھی یہ وائٹ پلاسٹک کارڈز استعمال کرتی ہیں۔ ان کارڈز کو ملازمین کے شناختی کارڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور ان کارڈز پر لگی میگنیٹک سٹرپ (مقناطیسی پٹی) کو مشین کے سامنے کرنے سے ملازمین کا دفاتر میں داخلہ ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ان کارڈز کا غلط استعمال بھی کیا جا رہا ہو۔

سائبر کرائم ونگ کے انچارج کا کہنا ہے کہ ان کے محکمے نے ہیکرز سے سینکڑوں کی تعداد میں یہ کارڈز برآمد کیے ہیں۔ ان کے بقول ان کارڈز کو عدالت میں بطور ثبوت پیش کرنے کے بعد اس پر موجود ڈیٹا یا ریکارڈ کو ختم کر کے کارڈ تلف کر دیا جاتا ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ گذشتہ دو سال میں ایف آئی اے نے جعلی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقم نکلوانے کے سولہ کیسز رجسٹر کیے، درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور کروڑوں روپے کی بازیابی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ پر ہونے والے ستر فیصد جرائم کا تعلق پلاسٹک منی ٹرانزایکشن فراڈ سے ہے جس کے ذریعے لوگوں کے کریڈٹ کارڈز کے نمبروں کو مختلف طریقوں سے چوری کر کے پیسے نکلوا لیے جاتے ہیں۔

ان کارڈز کو سکینر مشین میں چیک نہیں کیا جا سکتا

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق سائبر کرائم میں مالی فراڈ کے لیے وائٹ کارڈ مختلف طریقوں سے استعمال ہورہا ہے۔ ایک طریقے کے تحت ہیکرز کسی بینک کے کمپیوٹر نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر کے اس کا ڈیٹا چوری کرتے ہیں اور اس ڈیٹا کو اپنے کپمیوٹر میں محفوظ کرنے کے بعد وائٹ کارڈز پر کوڈنگ کر کے جعلی کریڈٹ کارڈز تیار کر لیے جاتے ہیں۔

دوسرے طریقے میں دکاندار یا تاجر ہیکرز کے ساتھ مل جاتے ہیں اور گاہک کے کریڈٹ کارڈ پر موجود کوڈ کو پوائنٹ آف سیلز مشین (پاذ مشین) کے ذریعے کاپی کر لیتے ہیں اور پھر مشین پر موجود ڈیٹا کو میگنیٹک سٹرپ ریڈر یا رائٹر(ایم ایس آر) کے ساتھ منسلک کر کے کمپیوٹر پر اُتار لیا جاتا ہے اور وائٹ کارڈ استعمال کرتے ہوئے اسی طرز کا ایک اور جعلی کریڈٹ کارڈ تیار کر لیا جاتا ہے۔

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں گاہک نے پٹرول ڈلوانے کے لیے پٹرول پمپ کے عملے کو اپنا کریڈٹ کارڈ دیا تو سکِمر مشین کے ذریعے کارڈ کا کوڈ (ٹریک ون،ٹو) چوری کر لیا گیا اور بعد میں عملے نے رقم کے عوض یہ کوڈ ہیکرز کے حوالے کر دیا۔

اظہر محمود نے بتایا کہ جرائم پیشہ افراد کے اس طرح کے ہتھکنڈوں کی وجہ غیر ملکی سیاح پاکستان آ کر اپنا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے سے کتراتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ملک بھی بدنام ہوتا ہے۔

انٹرنیٹ پر ہونے والے ستر فیصد جرائم کا تعلق پلاسٹک منی ٹرانزیکشن فراڈ سے ہے

ان کے بقول پاکستان میں پلاسٹک منی فراڈ کے سب سے بڑے ملزم محمد خان کو گذشتہ برس گرفتار کیا گیا جس کے قبضے سے درجنوں وائٹ کارڈز اور ان سے تیار کیےگئے جعلی کریڈٹ کارڈز برآمد کیے گئے۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے حکام نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے انٹرنیٹ جرائم پر قابو پانے کے لیے ان کے محکمے کے پاس مطلوبہ سہولتیں موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ اب تک سائبر کرائم کی ابتدائی جزیات ہی سیکھ سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو غیر ملکی ایجنسیاں ان کی ٹریننگ کے لیے آتی ہیں وہ انہیں آج سے پندرہ سال پرانی معلومات فراہم کرتی ہیں جس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم پر قابو پانے کیلئے حکومت پاکستان نے اکتیس دسمبر 2007ء کو ’پریونشن آف ای کرائم آرڈیننس‘ نافذ کیا تھا اوراس قانون پر عملدرآمد کا اختیار ایف آئی اے کو دیا گیا تھا جو کسی بھی مشکوک شخص یا ادارے کا کمپیوٹر سسٹم، لیپ ٹاپ، موبائل فون، کیمرہ وغیرہ شک کی بنیاد پر اپنی تحویل میں لے سکتی ہے اور اسے گرفتار بھی کرسکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس قانون میں ایف آئی اے کو لامحدود اختیارات دیے گئے ہیں جن کے غلط استعمال کا بھی خدشہ ہے۔

اسی بارے میں
معیشت کو خطرہ: سٹیٹ بینک
06 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد