سائبر کرائمز،سرغنہ پر فردِ جرم عائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیوزی لینڈ کے ایک نوجوان کو عالمی سائبر کرائمز کے نیٹ ورک کا سرغنہ ہونے پر مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اٹھارہ سالہ اوون تھور واکر نے چھ الزامات میں اقبال جرم کیا ہے۔ ان الزامات میں کمپیوٹرز کا غیر قانونی استعمال شامل ہے۔ واکر کو مئی میں سزا سنائی جائے گی۔ پولیس کے مطابق یہ عالمی نیٹ ورک کے افراد مبینہ طور پر دس لاکھ کمپیوٹرز میں داخل ہوسکے اور یوں وہ متعدد نجی بینک اکاؤنٹس سے پیسے لے کر کُل بیس اعشاریہ چار ملین امریکن ڈالر چرانے میں کامیاب ہو سکے۔ واکر کو امریکی ایجنسی ایف بی آئی کی تحقیقات کے بعد پچھلے نومبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تحقیق کا موضوع عالمی بوٹ نیٹ تھے۔ بوٹ نیٹ کپمیوٹرز کے اس نیٹ ورک کو کہتے ہیں جسے ایک کمپیوٹر سے انٹرنیٹ پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے پوری دنیا میں کمپیوٹرز میں سافٹ ویئر نصب کیا جاتا ہے جس سے بینک اکاؤنٹ اور کریڈٹ کارڈ جیسی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ واکر نے بدنیتی سے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کرنے، کمپیوٹر سسٹم میں مداخلت، سائیبر کرائم کے لیے سافٹ ویئر کے حصول اور بغیر اجازت کمپیوٹرز تک رسائی کے الزامات میں اقبال جرم کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واکر نے سکول کے زمانے میں ہی یہ جرم کرنے شروع کیے اور انہوں نے ایک وائرس بھی تیار کیا تھا جس کا اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے ذریعے پتہ نہیں چل سکتا۔ اس سافٹ ویئر کے ذریعے واکر کو صارف کا نام اور خفیہ پاس ورڈ اور کریڈٹ کارڈ کی معلومات تک رسائی حاصل ہو جاتی تھی جن کو نیٹ ورک کے دیگر افراد فراڈ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ واکر کو پانچ سال قید ہو سکتی ہے لیکن جج آرتھر ٹومپکنز نے اشارہ دیا ہے کہ وہ تحویلی سزا پر غور نہیں کر رہے۔ واکر کو نیو زی لینڈ کے شہر ہیملٹن سے گرفتار کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں لندن کا ’سائبر جہادی‘16 January, 2008 | آس پاس ٹروجن ہارس وائرس سے جاسوسی01 June, 2005 | آس پاس دوڑو کہ چین چال قیامت کی چل گیا11 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||