BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2009, 18:40 GMT 23:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کپتانی کا فیصلہ بورڈ کرے گا: ملک

شعیب ملک(فائل فوٹو)
’ٹیم نے 2008 میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا جس کا ہماری ٹیم کو نقصان ہوا ہے‘
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک کا کہنا تھا کسی بھی عہدے پر کسی شخص سے بہتر کام لینے کے لیے ضروری ہے کہ اسے وقت دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ ٹیم کا کپتان ہو یا کرکٹ بورڈ کا کوئی بھی اہلکار ہو اسے اتنا وقت دینا چاہیے کہ جب اسے اس کا کام سمجھ میں آ جائے اور وہ مزید بہتر کام کر سکے۔

شعیب ملک نے کہا کہ ہم بعض اوقات اسی لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ جب کسی شخص کو اس کا کام آ جاتا ہے تو اسے اس کے عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

شعیب ملک، جنہیں ڈاکٹر نسیم اشرف کے دور میں سنہ 2007 میں ٹیم کا کپتان بنایا گیا تھا، کے عہدے کی معیاد 31 دسمبر 2008 کو ختم ہو گئی۔

کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ شعیب ملک کو کپتان برقرار رکھا جاتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ 15 جنوری کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورنگ بورڈ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

’بہت کچھ سیکھا‘
کپتانی کے اٹھارہ مہینوں میں بہت کچھ سیکھا ہے۔میری ذاتی زندگی میں کافی بہتری آئی ہے اور جہاں تک میری کپتانی کو برقرار رکھنے کا معاملہ ہے تو یہ کرکٹ بورڈ کا فیصلہ ہو گا وہ جسے چاہے یہ عہدہ دیں
شعیب ملک

شعیب ملک نے جمعہ کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کپتانی کے اٹھارہ مہینوں میں بہت کچھ سیکھا ہے۔’میری ذاتی زندگی میں کافی بہتری آئی ہے اور جہاں تک میری کپتانی کو برقرار رکھنے کا معاملہ ہے تو یہ کرکٹ بورڈ کا فیصلہ ہو گا وہ جسے چاہے یہ عہدہ دیں۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں، وہ عام کھلاڑی کی صورت میں ہو یا کپتان کی صورت میں وہ ہر طرح سے اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

شعیب ملک سے دریافت کیا گیا کہ ان کے دور میں ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کو ان سے شکایت رہی ہے۔ اب اگر انہیں دوبارہ موقع دیا گیا تو وہ یہ شکایات دور کریں گے۔ شعیب ملک کا جواب تھا کہ اگر کوئی دنیا میں بہت اچھا کام بھی کرے تو بھی اس سے کسی نہ کسی کو تھوڑی بہت شکایت رہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم کی کپتانی ملنا ایک اعزاز ہے اور ٹیم کا ہر رکن یہ چاہتا ہے کہ اسے یہ اعزاز ملے لیکن جب بھی کسی ایک کو یہ عہدہ مل جائے تو تمام کھلاڑیوں کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے 2008 میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا جس کا ہماری ٹیم کو نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیم کا آنا ہمارے لیے بہت بہتر ثابت ہو گا اور انہیں ضرور آنا چاہیے۔

شعیب ملک نے کہا کہ آئی پی ایل میں کھیلنے یا نہ کھیلنے کا دارومدار حکومت کی پالیسی اور کرکٹ بورڈ کی اجازت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی تو خواہش ہوتی ہے کہ جہاں کرکٹ ہو رہی ہو وہ اس میں شرکت کریں اور کرکٹ کے ذریعے رابطہ بھی قائم رہ سکتا ہے لیکن حکومت کی اجازت ضروری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد