BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2009, 18:14 GMT 23:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوئی: جھڑپوں میں ’تیرہ ہلاک‘

ایف سی اہلکار(فائل فوٹو)
کارروائی میں ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں
بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں سوئی کے قریب فرنٹیئر کور اور مسلح مزاحمت کاروں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں اطلاعات کے مطابق ایف سی کے تین اور دس مزاحمت کار ہلاک ہوئے ہیں۔

فرنٹییر کور کے حکام کا کہنا ہے کہ سوئی میں اوچ سے پندرہ کلومیٹر دور شمال میں قومی تنصیبات کی حفاظت پر مامور عملے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا ہے جس پر ایف سی کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں ایف سی کے تین اہلکار ہلاک جبکہ پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر بشیر عظیم کا کہنا ہے کہ پیر کوہ کے قریبی علاقوں بڈھیر، گزی، زین ٹاپ اور دیگر دیہاتوں میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی ہے جس میں چھ بےگناہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور جھونپڑیوں کو آگ لگائی گئی ہے۔

دریں اثناء اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے سوئی میں زین کوہ کے علاقے میں بڑی کارروائی کی ہے جس میں خواتین اور بچوں سمیت دس بے گناہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سرباز بلوچ کے مطابق اس کارروائی کے بعد ایف سی کے اہلکاروں پر جوڈیر کے مقام پر حملہ کیا گیا ہے جس میں ایف سی کے بڑی تعداد میں اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

بی آر اے کے ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے بعد انہوں نے یکطرفہ جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یاد رہے بلوچستان میں مسلح تظیموں نے گزشتہ سال مسلح کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اُن افراد پر حملے کیے گئے جو بقول ان تنظیموں کے سرکار کے لیے مخبری کرتے تھے۔

اس کے علاوہ بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ بگٹی نے کوئٹہ پریس کلب میں نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے سر کار کے کسی نمائندے سے مذاکرات نہیں ہوئے اور ناں ہی انہوں نے کبھی اس کی خواہش ظاہر کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد