BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 November, 2008, 01:55 GMT 06:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فراحی کی تلاش میں مدد کی اپیل

مغوی افغان سفارتکار
عبدالخالق فراحی کو بائیس ستمبر کو پشاور سے اغواء کیا گیا تھا
پشاور سے قریباً ڈیڑھ ماہ قبل اغواء ہونے والے افغان سفارت کار اور پاکستان میں افغانستان کے نامزد قونصل جنرل ڈاکٹر عبدالخالق فراحی کے رشتہ داروں نے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ ان کی بازیابی کی کوششیں تیز کی جائیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مغوی افغان سفارت کار کے بھتیجے عبدالخالد فراحی نے کہا کہ ’اس واقعے سے ہم سب لوگ پریشان ہیں اور ہماری دونوں حکومتوں سے درخواست ہے کہ بازیابی کی کوششوں میں اضافہ کیا جائے‘۔

اس سوال پر کہ کیا نامزد قونصل جنرل کے اغواء کے بعد پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں نے ان سے رابطہ کیا ہے خالد فراحی نے کہا کہ انہیں یہ تو بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں رابطے ہوئے ہیں لیکن کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا کہ ڈاکٹر فراحی کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے مطمئن نہیں اور اب قریباً دو ماہ گزر جانے کے بعد انہیں لگتا ہے کہ حکومتیں اپنی پوری کوشش نہیں کر رہی ہیں۔ خالد فراحی نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پتہ کروائیں کہ انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالخالق فراحی کو بائیس ستمبر کو پشاور کے علاقے حیات آباد میں مسلح افراد نے اغواء کر لیا تھا اور اس واردات میں ان کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ عینی شاہدین کا دعویٰ تھا کہ ایک سفید ڈبل کیبن گاڑی میں چھ مسلح افراد نے افغان قونصل جنرل کو اغواء کیا۔

بائیس ستمبر کو ڈاکٹر عبدالخالق فراحی کے اغواء کے بعد سے تین مزید اہم افغان شخصیات کو پاکستانی علاقے سے اغواء کیا جا چکا ہے اور ان افراد کا اب تک کوئی سراغ مل سکا ہے اور نہ ہی ان کی رہائی کے لیے کوئی مطالبہ سامنے آیا ہے۔

نامزد افغان قونصل جنرل کے علاوہ جو افراد پاکستانی علاقے سے لاپتہ ہوئے ہیں ان میں افغانستان کے وزیرِخزانہ انوارالحق احدی کے چھوٹے بھائی ضیاء الحق احدی بھی شامل ہیں جنہیں جمعہ اکتیس اکتوبر کو پشاور ہی سے مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا۔ اس واقعے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی تھی تاہم پشاور میں افغان قونصلیٹ کے ایک اہلکار نے ضیاءالحق احدی کے اغواء کی تصدیق کی تھی۔

اس واقعے سے ایک ہفتے قبل پشاور میں افغان آریانہ یونیورسٹی کے سربراہ عبدالحق دانشمند کو جلا ل آباد سے پشاور آتے ہوئے راستے میں اغواء کرلیا گیا تھا جبکہ افغان حکومت کے ایک اور اہلکار، ایک وزارت کے مشیر اور بی بی سی کے سابق نامہ نگار اختر جان کوہستانی کو اتوار دو نومبر کو چترال کے علاقے میں نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اسی بارے میں
پشاور، افغان قونصل جنرل اغوا
22 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد