BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 November, 2008, 17:29 GMT 22:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاف لیگ کی تنظیمِ نو کی تیاریاں

حامد ناصر چٹھہ
چٹھہ گروپ کا مطالبہ ہے کہ مسلم لیگ میں فوری انتخابات کروائے جائیں
سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنماؤں نے ایک اجلاس میں پارٹی صدر چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں جماعت کے انتظامات موثر انداز میں چلانے اور انتخابات کے لیے امیدواروں کے نام تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

کئی روز سے ذرائع ابلاغ میں مسلم لیگ کے اندر شدید اختلافات کی خبروں کے تناظر میں جمعہ کے روز کئی اہم رہنما چودھری شجاعت حسین کے اسلام آباد رہائش گاہ پر اکھٹے ہوئے۔ تاہم اجلاس کے بعد میڈیا سے ان رہنماؤں کی مختصر بات چیت سے ظاہر ہوتا تھا کہ اختلافات کوئی زیادہ ختم نہیں ہو پائے ہیں۔

سابق وزیر خارجہ اور مسلم لیگ (ق) کے نائب صدر خورشید محمود قصوری نے ایک مختصر سا بیان پڑھ کر سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت کو موثر انداز میں چلانے اور آئندہ جماعتی انتخابات میں تمام عہدوں کے لیے امیدواروں کے نام تجویز کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ شجاعت حسین کی سربراہی میں اس کمیٹی کے دیگر اراکین کے نام ظاہر نہیں کیے۔

اس موقع پر حامد ناصر چٹھہ، گوہر ایوب، اعجاز الحق اور شجاعت حسین کی موجودگی میں خورشید قصوری نے کہا کہ سینئر رہنماؤں نے شجاعت حسین کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے اندرونی اختلافات کی قیاس آرائیوں کے خاتمے اور اتحاد برقرار رکھنے کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ تاہم سب نے یک زبان کہا کہ ’انشااللہ اختلافات ختم ہوچکے ہیں۔‘

تاہم مسلم لیگی رہنماوں نے صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کیا اور اپنy بات کو بیان تک محدود رکھا۔

اس سال فروری کے عام انتخابات میں انتہائی بری شکست کھانے کے بعد مسلم لیگ (ق) کے اندر قیادت کی تبدیلی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

 ہر دور حکومت کی طرح اس بار بھی حکومت کے ختم ہوتے ہی مسلم لیگ کے اندر مختلف دھڑوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا اور اب پارٹی کے ایک سرگرم رہنما حامد ناصر چٹھہ کی قیادت میں ایک مضبوط گروپ پارٹی قیادت کو ہٹا کر مسلم لیگ کو نئی قیادت فراہم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

ہر دور حکومت کی طرح اس بار بھی حکومت کے ختم ہوتے ہی مسلم لیگ کے اندر مختلف دھڑوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا اور اب پارٹی کے ایک سرگرم رہنما حامد ناصر چٹھہ کی قیادت میں ایک مضبوط گروپ پارٹی قیادت کو ہٹا کر مسلم لیگ کو نئی قیادت فراہم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

چٹھہ گروپ کا مطالبہ ہے کہ مسلم لیگ میں فوری انتخابات کروائے جائیں اور یہ کہ گجرات کے چودھریوں کے خاندان کا کوئی فرد ان پارٹی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرے۔

مسلم لیگ کی صدارت اور دیگر عہدوں کے لیے انتخابات اگلے برس ہونے ہیں۔

ناراض گروپ کے اس مطالبے کا عملی طور پر مطلب یہی بنتا ہے کہ چودہری برادران پارٹی کی باگ ڈور حامد ناصر چٹھہ گروپ کے حوالے کر دیں۔

پاکستان مسلم لیگ کی اندرونی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ گو کہ پارٹی پر چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کی گرفت تیزی سے کمزور پڑ رہی ہے، اس کے باوجود قرائن یہی بتاتے ہیں کہ چودھری برادران پارٹی قیادت سے علیحدہ ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پارٹی کے ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی مرکزی اور صوبہ پنجاب کی اسلمبیوں میں فارورڈ بلاک کے نام پر پارٹی چھوڑ چکے ہیں جبکہ مزید ارکان کی حمایت حامد ناصر چٹھہ اور اس کے علاوں بعض دیگر چھوٹے گروپس کو حاصل ہے جو چودھری برادران، بالخصوص سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے رویے سے سخت نالاں ہیں۔

ادھر چودھری شجاعت حسین اپنے تایا زاد بھائی پرویز الٰہی کو کسی طور اس مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتے جبکہ اس بات کے بھی خدشات موجود ہیں کہ قائد حزب اختلاف کا عہدہ چِھن جانے کے بعد پارٹی عہدے سے علیحدگی کے بعد انہیں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پرویز الٰہی کا نام پنجاب بینک سکینڈل میں لیا جاتا رہا ہے جس کے بعض کردار جن میں پنجاب بینک کے بعض سینیئر عہدیدار شامل ہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحویل میں ہیں۔

مسلم لیگ کی قیادت کے خلاف یہ ’بعاوت‘ ناکام ہوتی ہے یا کامیاب، سیاسی مبصرین کی توجہ چوہدری برادران، خاص طور پر پرویز الٰہی کے خلاف شروع ہونے والی اس مہم کے منبے کی تلاش پر ہے۔ بعض کے خیال میں اس کا کُھرا ایوان صدر سے جا ملتا ہیں جہاں پرویز الٰہی کی غیر مقبولیت اور حامد ناصر چٹھہ کی مقبولیت، دونوں راز نہیں ہیں۔

یہ حقیقت بھی محض اتفاق نہیں کہ چوہدری برادران کی معزولی کے حوالے سے چٹھہ گروپ، پیپلز پارٹی کی حکومت اور پاکستان مسلم لیگ نواز، تینوں کے مفاد مشترک ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد