پاکستان میں جاری ’جہاد نہیں فتنہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعتہ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ سوات اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے اندر جتنی بھی پرتشدد کارروائیاں ہورہی ہیں وہ جہاد نہیں بلکہ فتنہ ہیں۔ جماعتہ الدعوۃ کے امیر نے کہا کہ افغانستان پر امریکی حملہ ہو یا پھر لال مسجد کا سانحہ اس کے باوجود اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل پر حملے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے یہ بات پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کوانٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں دہشتگرد موجود ہیں تو حکومت پاکستان امریکہ سے ثبوت مانگے اور اس کے بعد ان افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ جماعتہ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے کہا کہ حکومت جب یک طرفہ آپریشن کرے گی اور دوسرے فریق کی بات نہیں سنے گی تو ان کاروائیوں کو نہیں روکا جاسکتا۔ حافظ محمد سعید لشکرطیبہ کے بانی ہیں جس پر ہندوستان کی حکومت اپنے ملک میں ہونے والی مختلف پرتشدد کارروائیوں کا الزام لگاتی ہے۔ حافظ محمد سعید نے پاکستان میں لشکر طیبہ کو کالعدم قرار دئیے جانے سے پہلے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایک نئی تنظیم جماعتہ الدعوۃ قائم کی۔ حافظ محمد سعید نے ٹی وی چینل کو اپنے حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے اندر ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ہرگز جہاد نہیں بلکہ فتنہ ہیں اور وہ اس کی حمایت نہیں کرتے۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ حکومت ان واقعات کی تحقیقات کرائے تو تمام حقائق سامنے آجائیں گے | اسی بارے میں ’پاکستان کی پالیسی تبدیل ہو رہی ہے‘ 12 November, 2003 | پاکستان لشکر طیبہ کمانڈر: غائبانہ نمازِ جنازہ 28 March, 2008 | پاکستان لشکر طیبہ کی انڈیا کو تنبیہ01 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||