BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 August, 2008, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی ٹی وی چیئرمین: تنخواہ، مراعات

پی ٹی وی چیئرمین
کامل علی آغا نے ڈاکٹر شاہد مسعود کی قابلیت کے بارے میں سوال اٹھایا
سینٹ میں حکومت کو سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے نئے چیئرمین کی تنخواہ اور مراعات کے دفاع میں کافی مشکل پیش آ رہی ہے۔

ایوان میں بدھ کو یہ معاملہ بلوچستان سے رکن ڈاکٹر محمد اسماعیل بلیدی کے ایک سوال کی وجہ سے اٹھا جس میں انہوں نے پی ٹی وی کے موجودہ چیئرمین اور مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہد مسعود کی تنخواہ اور دیگر مراعات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے تعینات کیے جانے والے ڈاکٹر شاہد مسعود ساڑھے آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ سولہ سو سی سی کی ایک گاڑی، ڈرائیور اور اس کے ایندھن کی لامحدود مقدار، بزنس کلاس میں مقامی اور بین الاقوامی سفر، ایک وقت شفٹنگ کے لیے دو لاکھ روپے، تفریح اور علاج معالجے کے لیے تمام اخراجات، لامحدود کالز کی سہولت کے ساتھ ایک موبائل فون، گھر پر فون کے لیے دس ہزار روپے کی کالز، گھر پر سکیورٹی گارڈز، ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر کی سالانہ گریجوٹی، پچاس ہزار روپے کا سالانہ انکریمنٹ اور پی ٹی وی کے دیگر ملازمین کی طرح بونس کے وہ بھی حقدار ہوں گے۔

معمول کے معاہدوں کے برعکس ڈاکٹر شاہد مسعود کے پی ٹی وی چھوڑنے یا حکومت کی جانب سے انہیں نکالنے کے لیے چھ ماہ کا نوٹس ایک دوسرے کو دینا ہوگا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود کے پاس چیئرمین اور ایم ڈی دونوں عہدے ہیں لیکن وہ تنخواہ صرف ایم ڈی کی لے رہے ہیں۔ اس سے قبل سیکریٹری اطلاعات چیئرمین کا عہدہ بھی سنبھالا کرتے تھے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو نجی ٹی وی چینل جیو سے پی ٹی وی ان کے کنٹریکٹ کے خاتمے سے قبل لانے کے لیے نجی چینل کو کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں انہیں دی جانے والی تنخواہ اور مراعات مناسب ہیں۔

ایوان میں قائد حزب اختلاف کامل علی آغا نے ڈاکٹر شاہد مسعود کی قابلیت کے بارے میں سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ آیا حکومت نے اس عہدے کے لیے کوئی اخباری اشتہار جاری کیا گیا تھا یا نہیں۔ اس پر وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ نہ گزشتہ حکومت نے اور نہ انہوں نے اس عہدے کے لیے کوئی اشتہار جاری کیا۔

سینٹرز جاوید اشرف قاضی، یاسمین شاہ اور ہارون اختر نے بھی اس تعیناتی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ڈاکٹر شاہد کے پاس اس عہدے کے لیے انتظامی صلاحیت یا تجربہ نہیں ہے۔ تاہم اے این پی کے حاجی محمد عدیل نے اس مشاہیر کا دفاع کیا۔

یہ معاملہ تفصیلی غور کے لیے پہلے ہی سینٹ کی اطلاعات سے متعلق کمیٹی کے زیر غور ہے۔ قائم مقام سینٹ چیئرمین جان محمد جمالی نے اس موقع پر کمیٹی کے سربراہ سینٹر لیاقت علی بنگلزئی سے کہا کہ وہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ ڈاکٹر شاہد اس کے سامنے پیش ہوں۔ کمیٹی کے پچھلے اجلاس میں وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
کامران خان کو شو کاز نوٹس
23 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد