امن مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے لوگوں کے درمیان رابطے کے لیئے کام کرنے والی تنظیم پاک انڈیا پیس فورم نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مذاکرات شروع کریں کیونکہ یہ مذاکرات کشمیر میں جلتی ہوئی صورتحال پر برف کا کام کر سکتے ہیں۔ کراچی میں فورم کے رہنما آئی اے رحمان، ایم بی نقوی اور انیس ہارون نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سن دو ہزار تین سے قیامِ امن کے لیے اعتماد کی بحالی کے کئی اقدامات پر اتفاق کیا گیا مگر بدقسمتی سے دونوں حکومتوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔ آئی اے رحمان کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیری عوام کے مسائل پر توجہ دے اور جو امن مذاکرات اٹکے ہوئے ہیں اور لٹک لٹک چل رہا ہے اس میں بہتری لائیں۔ ان کے مطابق فورم کا موقف ہے کہ کشمیر کا مسئلہ وہاں کے عوام کی رائے کے مطابق حل ہونا چاہیے وہ رائے کیسے معلوم ہوسکتی ہے جب دونوں طرف کے کشمیریوں کو آپس میں ملنے ہی نہیں دیا جاتا ہے۔ حکومتوں کو چاہیئے کہ صرف آپس میں ہی مذاکرات نہ کریں اس میں کشمیریوں کو بھی شامل کریں۔ انسانی حقوق کمیشن کے سینئر رہنما ایم بی نقوی کا کہنا ہے کہ اس فورم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پورے خطے میں اچھے تعلقات ہوں تاکہ سماجی اور معاشی ترقی ہوسکے۔ پاکستان سری لنکا، بنگلاش دیش اور بھارت میں یورپی یونین کی طرز پر معاشی اور سیاسی سماجی تعلقات ہونے چاہئیں۔ پاک انڈیا پیس فورم کی جانب سے دونوں ممالک میں کنونشن منعقد کیے جاتے ہیں، جس میں دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کے درمیان حائل رکاوٹوں پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں دنیا کشمیر کا نوٹس لے: پاکستان13 August, 2008 | پاکستان لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوششیں14 August, 2008 | پاکستان وادی نیلم: مقامی لوگوں کا مظاہرہ16 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||