جب شعر سفر کرجائےگا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناصر کاظمی، احمد ندیم قاسمی، جون ایلیا، خاطر، قتیل، فارغ، منیر نیازی ، احمد شاہ فراز۔آسمانِ سخن کی یہ ڈار کل پوری طرح بکھرگئی ۔ظفر اقبال اور انور شعور نامی دو بچھڑی کونجیں پر سمیٹے بیٹھی ہیں۔اور اب ہم فرحت عباس شاہ، وصی شاہ اور سعد اللہ شاہ وغیرہ کے رحم و کرم پر ہیں۔ احمد فراز قبیلہ فیض کے آخری سورما تھے ۔یہ قبیلہ دنیائے ادب میں مزاحمتی نوالے کو معشوقی کے شہد میں ڈبو کر تناول کرنے کے لئے جانا جاتا تھا۔ احمد شاہ فراز اور انکے ہم عصروں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اردو فراز کی سیکنڈ لینگیویج بھی نہیں تھی۔بلکہ اردو انہوں نے صحیح معنوں میں اپنی ریڈیو پاکستان کی نوکری کے زمانے میں سیکھنی شروع کی۔پھر تو وہ جانِ حیا ایسا کھلا ایسا کھلا کہ اہلِ اردو کے لئے تیرہ شعری مجموعے چھوڑ کر رخصت ہوا۔ ایک فراز وہ تھا جو وہ بھی کیا دن تھے جب فراز اس سے ٹائپ کی شاعری کررہا تھا اور پھر یوں لگا جیسے اس نے تخلیقی انجن پر پانچواں گئیر ٹربو کے ساتھ لگا دیا۔ تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے یاد آیا تھا بچھڑنا تیرا اتنا بے صرفہ نہ جائے میرے گھر کا جلنا یوں پھر رھا ہے کانچ کا پیکر لئے ہوئے یارو مجھے مصلوب کرو تم کہ مرے بعد رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے میرے سخن کا قرینہ ڈبو گیا مجھ کو میری ضرورتوں سے زیادہ کرم نہ کر کیا مالِ غنیم تھا میرا شہر دانے کی ہوس لا نہ سکی دام میں مجھ کو میری گردن میں بانہیں ڈال دی ہیں درِ زنداں سے پرے کون سے منظر ہوں گے گویا فراز کے ہاں عاشق کے لئے بھی معیاری مال وافر تھا۔معشوق کے لئے بھی اور انقلابی کے لئے بھی۔ایسا نہیں ہے کہ فراز نرا شاعر تھا۔وہ دنیا دار بھی تھا اور اسکا شمار اردو کے معدودے چند خوشحال شاعروں میں ہوتا تھا۔لہذا فراز کے اس شعری دھوکے میں نہ آئیے گا کہ یہ شعر اسلام آباد کی بیورو کریٹک زندگی سے پہلے کا ہے۔
سڑک کے آدمی کے لئے وہ براستہ مہدی حسن رنجش ہی سہی والا شاعر ہے۔اور کچی رومانویت میں لپٹے ہوئی نوجوان روح کے لئے وہ کہا تھا کس نے اسے حالِ دل سنانے جا والا بال بکھیرو سخنور ہے۔ لیکن میرا فراز وہ ہے جس نے جنرل ضیا الحق کی تپتی آمریت کا سورج سوا نیزے پر ہوتے ہوئے کراچی کے ڈاؤ میڈیکل کالج میں نظم محاصرہ پڑھی تھی میرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے فراز محاصرہ پڑھ کر سٹیج سے اترے تو نعروں اور تالیوں نے چھت پھاڑ دی اور نوجوان انکے ہاتھوں کو پرنم آنکھوں سے اس طرح چومتے رہے کہ ایسی عقیدت فراز کے جدِ امجد کوھاٹ کے ولی حاجی بہادر کو بھی شاید میسرنہ آئی ہو۔ لیکن فراز نے جو کام جنرل ضیا کی آمریت کے ساتھ کر دکھایا ویسا کام جنرل مشرف کی آمریت میں نہ ہوسکا۔آدمی تھک بھی تو جاتا ہے نا ! لیکن عمر کے بوجھ سے آہستہ آہستہ دبنے والے فراز نے یہ ضرور کیا کہ جنرل مشرف حکومت کے ہاتھوں پانے والا نشانِ امتیاز دو برس رکھنے کے بعد اسی حکومت کے منہ پر مار دیا۔اس کے عوض کوئی سال بھر بعد احمد فراز کا سامان سرکاری کارندوں نے گھر سے اٹھا کر سڑک پر پھینک دیا۔ فراز سے میں نے آخری مصاحفہ گیارہ جون کو اعتزاز احسن کے لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد پریس کلب میں کیا۔بوڑھے فراز کے چہرے پر وہی سرخی دوڑ رہی تھی جیسی سرخی برسوں پہلے جنرل ضیا کی آمریت کو للکارنے والے وجیہہ فراز کی آواز میں محسوس ہوتی تھی۔فراز نے پریس کانفرنس کے بعد بتایا آج کل وزیرستان پر ایک طویل نظم لکھ رھا ہوں۔جانے یہ نظم کب مکمل ہو۔۔۔۔۔۔۔ معلوم نہیں فراز کی یہ نظم کب سامنے آ ئے گی یا نہیں آئے گی۔تب تک برسوں پرانی اس نظم کے عکس میں آپ آج کے وزیرستان اور دیگر علاقوں کی تصویر دیکھ کر گذارہ کیجئے تم اپنے عقیدوں کے نیزے ہر دل میں اتارے جاتے ہو |
اسی بارے میں سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے26 August, 2008 | قلم اور کالم فراز تین اگست کو وطن واپس01 August, 2008 | پاکستان اردو لکھاری: باتوں ملاقاتوں کی سیریز24 August, 2007 | فن فنکار ’مشرف ملک توڑنے کے راستے پر‘: احمد فراز23 July, 2006 | پاکستان احتجاج کی شاعری دم توڑ چکی ہے: فراز03 April, 2007 | فن فنکار احمد فراز: صدارتی اعزاز واپس23 July, 2006 | فن فنکار آچکےاب توشب و روز۔۔17 August, 2006 | ملٹی میڈیا احمد فرازسرکاری عہدے سےفارغ25 June, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||