BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 August, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پرویز مشرف اب کھیل کھیلیں گے‘

مسلم لیگ کے وفد نے سابق صدر کی خدمات کی تعریف کی
سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے ایک وفد نے بدھ کو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے ان کے استعفے کے بعد پہلی مرتبہ ملاقات کی جس میں انہیں بتایا گیا کہ سابق صدر سیاست سے دور آرام کی نجی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔

مستعفی صدر کی حامی جماعت کے وفد میں سابق وزیر اعلٰی پنجاب اور قائد حزب اختلاف چوہدری پرویز الٰہی، سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات سینٹر نثار میمن، ان کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی ماروی میمن اور سینٹر مشاہد حسین سید سمیت کئی رہنما شامل تھے۔

وفد کے مطابق صدارتی کیمپ آفس میں ہونے والی اس ملاقات کا مقصد سابق صدر کا شکریہ ادا کرنا اور ملک کے لیے ان کی خدمات کو سراہنا تھا۔

چوہدری پرویز الٰہی نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے سابق صدر سے ان کی جماعت کی قیادت سنبھالنے یا سرپرستی کرنے کی کسی تجویز پر کوئی بات نہیں کی۔ ’ایسی نہ ہماری سوچ ہے اور نہ ہی کوئی بات ہوئی‘۔

البتہ ماروی میمن نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا کہ پرویز مشرف ایک وسیع النظر رہنما تھے جس کا ان کی جماعت میں باضابطہ تو کوئی کردار نہیں لیکن وہ انفرادی سطح پر ان سے ہدایات لیتے رہیں گے۔

چوہدری پرویز الٰہی نے سابق صدر کے حوالے سے بتایا کہ وہ استعفے کے بعد اب مکمل آرام کرنا چاہتے ہیں۔ ’ان کا کہنا تھا کہ وہ ریلیکس کریں گے اور کتابیں لکھیں گے اور کھیل کھیلیں گے‘۔

بیرون ملک جانے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ نہ انہوں نے سابق صدر سے اس بارے میں کچھ پوچھا اور نہ ہی ہی ان کا کوئی ایسا ارادہ دکھائی دے رہا تھا۔

ملاقات میں سینٹر مشاہد حسین نے پرویز مشرف سے دریافت کیا کہ انہوں نے استعفے کا فیصلہ کب کیا تھا تو انہیں بتایا گیا کہ اتوار کی رات انہوں نے بیٹھ کر اپنی ذات کو ایک طرف رکھ کر تمام آپشنز پر غور کیا اور یہ فیصلہ کیا۔

نثار میمن نے تاہم ان خبروں کی تردید کی جن میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر نے اسلام آباد کے مضافات میں چک شہزاد کا اپنا فارم ہاوس فروخت کر دیا ہے۔ ’یہ کافی گھٹیا صحافت ہو رہی ہے۔ وہ اب ریٹائر ہوچکے ہیں لہذا انہیں ہر معاملے میں اب نہیں گھسیٹنا چاہیے‘۔

سابق صدر کے محاسبے کے مطالبات کے بارے میں نثار میمن نے کہا کہ احتساب تو اب ان لوگوں کا ہونا چاہیے جو حکومت میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد