BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 August, 2008, 18:02 GMT 23:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشت گردوں کی گرفتاری کا دعوٰی

ملزموں کے قبضے سے چار خودکش جیکٹس بھی ملی ہیں
لاہور پولیس نے آٹھ مبینہ دہشت گردوں کوگرفتار کرنے کا دعوٰی کیا ہے جو پولیس کے بقول سرگودھا میں پاکستان ائیر فورس کی بس اور سرگودھا پولیس لائن پر ہونے والے خودکش حملوں میں ملوث ہیں۔

یہ دعویْ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور پرویز راٹھور نے ڈی آئی جی پولیس انوسٹی گیشن مشتاق سکھیرا کے ہمراہ جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

پرویز راٹھور نے بتایا کہ ان افراد کو لاہور کے نواح سے مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا ہے ۔ان کے بقول ملزموں کے قبضے سے چار خودکش جیکٹس، دس دستی بم، دو گرینیڈ لانچر، دو کلاشنکوف اور بھاری مقدار میں گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے ان ملزموں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے جس کا مرکز وانا میں ہے۔ تاہم پولیس آفیسر نے اس بارے میں نہیں بتایا کہ ان گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق کس کالعدم تنظیم سے ہے۔

پولیس آفیسر نے بتایا کہ جن ملزموں کو گرفتار کیاگیا ان میں محمد محسن،دلشاد علی،سیف اللہ،نصر اللہ،زاہد اقبال، محمد شاہد، محمد محمد عثمان کا تعلق سرگودھا جبکہ بابر عثمان کا تعلق راجن پور سے ہے۔

پولیس کے بقول ان ملزمان نے کالعدم تنظیم کی قیادت کی ہدایت پر اپنے ساتھی ملزم فاروق عرف حسنین عرف معاویہ کو سرگودھا جیل سے رہا کرانا تھا جو سرگودھا خودکش حملوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے جیل میں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزموں نے اس پولیس انسپکٹر کے قتل کا منصوبہ بھی تیار کر رکھا تھا جس نے سرگودھا خودکش حملوں کے واقعات کی تفتیش کرکے ملزموں کی نشاندہی کی تھی۔

ڈی آئی جی انوسٹی گیشن مشتاق سکھیرا نے بتایا کہ یہ ملزم تاوان کے لیے اہم لوگوں کو اغوا کرانا چاہتے تھے اور تاوان سے موصول ہونے والی رقم اپنے تنظیم کو پہنچانا چاہتے تھے تاکہ اس کو مزید دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

پولیس کے بقول ان ملزموں کی گرفتاری سے لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزموں سے تفتیش جاری ہے اور اہم انکشافات کی توقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد