BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 July, 2008, 23:30 GMT 04:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوبامہ سے ملاقات اچھی رہی: گیلانی

یوسف رضا گیلانی
پاکستانی حکومتی حلقے وزیر اعظم کے امریکی دورے کو بہت ہی مفید اور کامیاب قرار دے رہے ہیں
پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی صدارت کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار بارک اوبامہ سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات منگل کی صبح امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے اس ہوٹل میں ہوئي جہاں پاکستانی وزیر اعظم قیام پذیر ہیں۔

وزیر اعظم گیلانی اور سینیٹر اوبامہ کی ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی۔ ملاقات کے بعد چند مِنٹوں کے لیے پاکستانی وزیر اعظم ہوٹل کی اس لابی میں منتظر و موجود صحافیوں کے پاس رکے اور انہیں بتایا کہ بارک اوبامہ سے ان کی ملاقات بہت ہی خوشگوار رہی۔

جب صحافیوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تفصیلات پر استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ ’میں اس وقت ان کی (اوبامہ کی) مہم کا حصہ نہیں بننا چاہتا بس اتنا ہی کہوں گا کہ ملاقات بہت ہی اچھی رہی۔‘

توانائی کا شعبہ
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر پانی اور توانائي راجہ پرویز ا شرف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے صوبۂ سندھ کے علاقے تھر میں کوئلے کے ذخائر و پیداوار پر کئي امریکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں سے ان کی بات ہوئی ہے

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی مصروفیات میں کوکاکولا کمپنی کے مالک یا سی ای او سے بھی ملاقات شامل رہی۔ ورلڈ بنک کے سربراہ سے بھی پاکستانی وزیر اعظم کی ملاقات متوقع تھی۔

اگرچہ پاکستانی حکومتی حلقے وزیر اعظم کے امریکی دورے کو بہت ہی مفید اور کامیاب قرار دے رہے ہیں لیکن واشنگٹن کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے دورے کی کامیابی میں کافی مشکلات ہیں اور اسے صرف امریکی حکام اور رہنماؤں سے تعلقات عامہ کی مشق ہی کہا جاسکتا ہے۔

دوسری طرف وزیر اعظم کے وفد میں اب شامل سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر پانی اور توانائي راجہ پرویز ا شرف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے صوبۂ سندھ کے علاقے تھر میں کوئلے کے ذخائر و پیداوار پر کئي امریکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں سے ان کی بات ہوئی ہے۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ نے صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ تھر کے کوئلے سے وفاق اور صوبہ سندھ کو برابر کا فائدہ حاصل ہوگا اور بقول ان کے جو لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ سندھ کو اس کا برابر کا حصہ نہیں ملے گا اور وفاق تھر کے کوئلے کی آمدنی لے جائے گا وہ قدامت پسند لوگ ہیں۔

یاد رہے کہ تھر کے کوئلے پر وفاقی کی طرف سے تھر کول اتھارٹی کے قیام کو کئي ناقدین جن میں کچھ صوبائي حکومت کے ٹیکنو کریٹس بھی شامل ہیں وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائي خودمختاری میں مداخلت کہہ رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد