اسلام آباد میں پاک بھارت مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت اور ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات میں اسلام آباد میں ختم ہوگئے ہیں۔ یہ بات چیت کابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کے پس منظر میں ہوئی تاہم مشاورت کے بعد جاری مختصر اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات خوشگوار اور مثبت ماحول میں منعقد ہوئے۔ کابل حملے کے بعد اس قسم کے خدشات تھے کہ شاید بھارت افغانستان کی طرح پاکستان سے تعلقات کی بہتری کے لیے ہر قسم کے مذاکرات سے انکار کر دے لیکن آج کے اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم بھارت کا فی الحال ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ اعلامیے کے مطابق فریقین نے لائن آف کنٹرول پر تجارت اور سفر کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا تاہم اجلاس میں ہوئے کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دونوں ممالک کے ورکنگ گروپ کے اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا اور سارک عزیز احمد چودھری نے کی جبکہ بھارت کی جانب سے وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری ٹی سی اے راگھون شریک ہوئے۔ ان مذاکرات کا فیصلہ اس سال اکیس مئی کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان وزراء خارجہ کی سطح کی بات چیت میں ہوا تھا۔ ادھر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان جلد ہفتہ وار بنیادوں پر بس سروس شروع کی جائے گی۔ پاکستانی سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی نے بھارتی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ریجنل پاسپورٹ آفیسر بی مانا والان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سری نگر۔ مظفرآباد شاہراہ پر اس وقت مہینے میں دو بار مسافر بس سروس چلائی جا رہی ہے اور اسے جلد ہی ہفتہ وار بنیادوں پر چلایا جائے گا۔ | اسی بارے میں ’بغیر ثبوت الزام تراشی صحیح نہیں‘13 July, 2008 | پاکستان ’الزام تراشیوں سے گریز کریں‘ 15 July, 2008 | پاکستان ’انگور اڈہ گولہ باری طالبان نے کی‘12 July, 2008 | پاکستان بھارت پاک سیمی فائنل میں جھڑپ17 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||