فیصل آباد: صنعت کاروں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صنعتی شہر فیصل آباد میں گیس بجلی کے نرخوں میں اضافہ سمیت مختلف حکومتی اقدامات کے خلاف ٹیکسٹائل ملزمالکان اور دیگر کارخانہ داروں نے ہڑتال کر دی ہے۔ جمعہ کو مختلف کارخانوں میں کام نہیں ہوا، مشینیں خاموش رہیں اور محنت کش بند دروازے دیکھ کر گھروں کو لوٹ گئے۔ صنعت کاروں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کی جوائنٹ ایکشن کیمٹی کے چئیرمین خواجہ عاصم خورشید نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے پر صنعتیں پانچ روز کے لیے بند کی گئی ہیں البتہ انہوں نے کہا کہ پندرہ جولائی کو ایک بار پھر مشاورتی اجلاس ہوگا اور حکومت نے اگر ٹیکسٹائل اور اس سے وابستہ صنعتوں کے لیے مجوزہ رعایتی پیکج جاری نہ کیا تو پھر اسی احتجاج کو غیر معینہ مدت کی ہڑتال میں تبدیل کردیا جائے گا۔ فیصل آباد چمبر آف کامرس میں ہڑتالی صنعت کاروں اور برآمد کنندگان نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ عاصم خورشید فیصل آباد چمبر آف کامرس کے صدر بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے مطالبات میں گیس کی قیمت میں اکتیس فی صد اضافہ کی واپسی کے علاوہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہ کرنے کی یقین دہانی، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ کے دوبارہ اجراء اور بنکوں کی شرح سود میں کمی بھی شامل ہیں۔ ادھر فیصل آباد چمبر آف کامرس میں پنجاب کے دیگر دس شہروں کے ایوان صنعت وتجارت کے عہدیداروں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ایوان صنعت و تجارت لاہور کےصدر محمد علی میاں نے کہا کہ لاہور سمیت پنجاب کے دس شہروں کے چمبرزآف کامرس میں احتجاجی بینراور پوسٹر لگا دیئے گئے ہیں اور اگر حکومت نے صنعتکاروں اور تاجروں کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے تو اٹھارہ جولائی سے لاہور سمیت تمام دس شہروں کے صنعتکار اور تاجر اس ہڑتال میں شامل ہوجائیں گے۔ فیصل آباد میں کارخانہ داروں اور برآمد کنندگان کی ہڑتال سے متاثر ہونے والوں میں وہ محنت کش شامل ہیں جو آج کام پر نہیں جاسکے۔ ہڑتالی صنعت کاروں کا کہناہے ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ مزدوروں میں ایک بڑی تعداد روزانہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کی ہے جن کے خاندان ہڑتال کے پہلے روز ہی مالی تنگی کا شکار ہوجائیں گے۔ ہڑتالی سرمایہ کار حکومت سے اربوں روپے کے جس رعایتی پیکج کا مطالبہ کررہے ہیں ان میں محنت کشوں کے لیے کوئی ریلیف شامل نہیں ہے حکومت سے مفاہمت کی صورت میں وہ صرف ممکنہ بے روزگاری ہونے سے بچ پائیں گے۔ ہڑتالی سرمایہ کاروں نے محنت کشوں کی کم از کم تنخواہ میں ڈیڑھ ہزار روپے ماہوار کے اضافہ پر بھی اعتراض کیا ہے اور ایک صنعتکار اظہر مجید شیخ کا کہنا ہے کہ ان کے ایک کارخانے کو صرف اس ایک فیصلے کی وجہ سے ایک کروڑ روپے ماہوار کا اضافی خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کی ستر فی صد سے زائد برآمدات ٹیکسٹائل اور اس سے وابستہ صنعتوں سے متعلق ہیں اور پاکستان کی آدھی سے زیادہ ٹیکسٹائل پیدوار فیصل آباد میں ہوتی ہے۔ صنعتکاروں کاکہنا ہے کہ پاکستان میں پیداواری لاگت اتنی بڑھتی چلی جارہی ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں انڈیا چین، بنگلہ دیش اور سری لنکا کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار جاوید اسلم کا کہنا ہے کہ تیل گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے اور پھر اس کے نتیجے میں پیدواری لاگت میں اضافہ کے باعث پاکستانی مصنوعات قیمیت کے لحاظ سے مسابقت کی دوڑ سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ | اسی بارے میں سندھ میں فلور ملوں کی ہڑتال ختم04 July, 2008 | پاکستان قیمتوں میں ابہام، مالکوں کے مزے02 July, 2008 | پاکستان بجلی کی ریکارڈ قلت ختم27 June, 2008 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ29 June, 2008 | پاکستان پاکستان: ڈیزل کی کمی کی شکایت27 June, 2008 | پاکستان پیر سے ریل کرایہ میں اضافہ05 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||