BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 June, 2008, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے ریکارڈز کے ساتھ بھارت374 رنز

بھارت نے انتہائی تیز رفتار انداز میں بیٹنگ کی
بھارتی بیٹسمینوں نے ہانگ کانگ کی بولنگ کے خلاف انتہائی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں چار وکٹوں پر تین سو چوہتر رنز بنائے۔

یہ ایشیا کپ میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سکور بھی ہے۔ اس سے قبل2004ء میں پاکستان نے ہانگ کانگ ہی کے خلاف تین سو چونتیس رنز بنائے تھے۔

بھارتی اننگز کی خاص بات سریش رائنا اور کپتان مہندر سنگھ دھونی کی شاندار سنچریاں تھیں۔

سریش رائنا پہلی مرتبہ ون ڈے میں تین ہندسوں کی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ان دونوں کے علاوہ وریندر سہواگ اورگوتم گمبھیر نے بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچریاں بنائیں۔

ہانگ کانگ کے بالرز جنہوں نے پاکستان کی سات وکٹیں صرف ایک سو اکسٹھ رنز پر حاصل کرکے سب کو حیران کردیا تھا بھارتی بیٹنگ لائن پر اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہے۔

دھونی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

گوتم گمبھیر اور وریندر سہواگ نے پہلی وکٹ کی شراکت میں ایک سو ستائیس رنز کا اضافہ کیا۔

سہواگ نے انتہائی جارحانہ انداز اختیار کیا اور صرف ستائیس گیندوں پر نو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی لیکن اٹہتر کے سکور پر وہ نجیب امر کی گیند پر عرفان احمد کے ہاتھوں کیچ ہوگئےان کی اننگز میں تیرہ چوکے اوردو چھکے شامل تھے۔

گوتم گمبھیر سات چوکوں کی مدد سے اکاون رنز بنا کر نجیب امر کی گیند پر رائے لمسم کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

جن بالروں نے پاکستان کے چھ کھلاڑی کو انتہائی کم سکور پر آؤٹ کردیا تھا بھارت کے خلاف کارگر ثابت نہ ہو سکے

روحیت شرما کے گیارہ رنز پر رن آؤٹ ہونے کے بعد کپتان مہندر سنگھ دھونی اور سریش رائنا نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں ایک سو چھیاسٹھ رنز کا اضافہ کرکے ہانگ کانگ کی مایوسی کو انتہا تک پہنچادیا۔

یہ ایشیا کپ میں چوتھی وکٹ کی ریکارڈ شراکت بھی ہے اس سے قبل1990ء میں سری لنکا کے ارجنا رانا تنگا اور اروندا ڈی سلوا نے بنگلہ دیش کے خلاف کولکتہ میں چوتھی وکٹ کے لئے139 رنز بنائے تھے۔

سریش رائنا نے اپنی بتیسویں اننگز میں پہلی ون ڈے سنچری صرف چھیاسٹھ گیندوں پر سات چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے مکمل کی۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی دوسری نصف سنچری صرف سولہ گیندوں پر پانچ چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔

وہ ایک سو ایکرنز بناکر افضال حیدر کی گیند پر عرفان احمد کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

مہندر سنگھ دھونی نوے گیندوں پر پانچ چوکوں اور چھ چھکوں کی مدد سے تین ہندسوں تک پہنچے۔ وہ چھ چوکوں اور چھ چھکوں کے ساتھ ایک سو نو رنز بناکر ناٹ آؤٹ ہوے یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی چوتھی سنچری ہے۔

رابن اتھپا پندرہ رنز کے ساتھ دوسرے ناٹ آؤٹ بیٹسمین تھے۔
نجیب امر دو وکٹوں کے ساتھ ہانگ کانگ کے سب سے کامیاب بولر رہے ۔ پاکستان کے خلاف چار وکٹیں حاصل کرنے والے ندیم احمد کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد