نئے ریکارڈز کے ساتھ بھارت374 رنز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی بیٹسمینوں نے ہانگ کانگ کی بولنگ کے خلاف انتہائی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں چار وکٹوں پر تین سو چوہتر رنز بنائے۔ یہ ایشیا کپ میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سکور بھی ہے۔ اس سے قبل2004ء میں پاکستان نے ہانگ کانگ ہی کے خلاف تین سو چونتیس رنز بنائے تھے۔ بھارتی اننگز کی خاص بات سریش رائنا اور کپتان مہندر سنگھ دھونی کی شاندار سنچریاں تھیں۔ سریش رائنا پہلی مرتبہ ون ڈے میں تین ہندسوں کی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ وریندر سہواگ اورگوتم گمبھیر نے بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچریاں بنائیں۔ ہانگ کانگ کے بالرز جنہوں نے پاکستان کی سات وکٹیں صرف ایک سو اکسٹھ رنز پر حاصل کرکے سب کو حیران کردیا تھا بھارتی بیٹنگ لائن پر اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہے۔ دھونی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ گوتم گمبھیر اور وریندر سہواگ نے پہلی وکٹ کی شراکت میں ایک سو ستائیس رنز کا اضافہ کیا۔ سہواگ نے انتہائی جارحانہ انداز اختیار کیا اور صرف ستائیس گیندوں پر نو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی لیکن اٹہتر کے سکور پر وہ نجیب امر کی گیند پر عرفان احمد کے ہاتھوں کیچ ہوگئےان کی اننگز میں تیرہ چوکے اوردو چھکے شامل تھے۔ گوتم گمبھیر سات چوکوں کی مدد سے اکاون رنز بنا کر نجیب امر کی گیند پر رائے لمسم کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
روحیت شرما کے گیارہ رنز پر رن آؤٹ ہونے کے بعد کپتان مہندر سنگھ دھونی اور سریش رائنا نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں ایک سو چھیاسٹھ رنز کا اضافہ کرکے ہانگ کانگ کی مایوسی کو انتہا تک پہنچادیا۔ یہ ایشیا کپ میں چوتھی وکٹ کی ریکارڈ شراکت بھی ہے اس سے قبل1990ء میں سری لنکا کے ارجنا رانا تنگا اور اروندا ڈی سلوا نے بنگلہ دیش کے خلاف کولکتہ میں چوتھی وکٹ کے لئے139 رنز بنائے تھے۔ سریش رائنا نے اپنی بتیسویں اننگز میں پہلی ون ڈے سنچری صرف چھیاسٹھ گیندوں پر سات چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے مکمل کی۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی دوسری نصف سنچری صرف سولہ گیندوں پر پانچ چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔ وہ ایک سو ایکرنز بناکر افضال حیدر کی گیند پر عرفان احمد کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ مہندر سنگھ دھونی نوے گیندوں پر پانچ چوکوں اور چھ چھکوں کی مدد سے تین ہندسوں تک پہنچے۔ وہ چھ چوکوں اور چھ چھکوں کے ساتھ ایک سو نو رنز بناکر ناٹ آؤٹ ہوے یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی چوتھی سنچری ہے۔ رابن اتھپا پندرہ رنز کے ساتھ دوسرے ناٹ آؤٹ بیٹسمین تھے۔ | اسی بارے میں ’پاکستان کو دباؤ میں لے آئے تھے‘24 June, 2008 | کھیل اشرفل کی سنچری، بنگلہ دیش فاتح24 June, 2008 | کھیل پاکستان نے ہانگ کانگ کو ہرا دیا24 June, 2008 | کھیل ’ایشیا کپ سے اک نئی شروعات‘23 June, 2008 | کھیل سلیم الطاف، عارضی طور پر بحال25 June, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||