’چاہتے ہیں جیت کا تسلسل قائم رہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شعیب ملک کی قیادت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم سہ فریقی ون ڈے سیریز کھیلنے جمعہ کو ڈھاکہ پہنچ گئی ہے۔ اس سیریز کا پہلا میچ آٹھ جون کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہوگا، دس جون کو بھارت اور پاکستان مدمقابل ہونگے جبکہ بارہ جون کو بھارت کا مقابلہ بنگلہ دیش سے ہوگا۔ اس سیریز کا فائنل چودہ جون کو کھیلا جائےگا۔ روانگی سے قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ٹیم اس وقت جیت رہی ہے اور وہ اس تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ شعیب ملک کی قیادت میں پاکستانی ٹیم بھارت، زمبابوے اور بنگلہ دیش کے خلاف لگاتار گیارہ ون ڈے انٹرنیشنل میچ جیت چکی ہے۔ شعیب ملک نے کہا کہ’فیلڈنگ اور فٹنس دونوں اہم شعبوں میں بہتری رہی ہے۔ بیٹنگ اور بولنگ میں قسمت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن فٹنس اور فیلڈنگ میں انفرادی طور پر سخت محنت درکار ہوتی ہے اور کھلاڑی ان دونوں شعبوں میں بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی ٹیم اپنے ملک میں کمزور نہیں ہے جبکہ اس سیریز میں بھارتی ٹیم بھی شریک ہے جو اس وقت اچھی فارم میں ہے اور پاکستانی ٹیم کو اسے شکست دینے کے لیے بہت محنت کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ جیتنے سے یقیناً بھارت کے خلاف میچ کے لیے حوصلہ بلند ہوگا۔ شعیب ملک نے کہا کہ ایشیا کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ سہ فریقی سیریز بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ شعیب ملک نے کہا کہ وکٹ کیپر کامران اکمل کو اوپنر کے طور پر آزمایا جائےگا کیونکہ اس صورت میں ٹیم کو ایک اضافی آل راؤنڈر کھلانے کا موقع مل جاتا ہے۔ کپتان نے محمد آصف کے بارے میں محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پوری ٹیم کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں تاہم کھلاڑیوں کی توجہ کرکٹ پر مرکوز ہے۔ پاکستانی ٹیم کے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن نے بھی محمد آصف کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ’فاسٹ بولر کے لیے یہ بہت برا ہوا ہے‘۔لاسن نے کہا کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پچھلے پانچ ہفتے مصروف رہنے کے بعد کرکٹرز کو پچاس اوورز کی کرکٹ میں واپس لانے کے لیے یہ سیریز اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹرز آئی پی ایل میں غیرمعمولی کارکردگی نہ دکھا سکے لیکن اس کے باوجود انہیں توقع ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں اچھے نتائج دیں گے۔لاسن کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستانی ٹیم کی حالیہ کامیابیاں کمزور ٹیموں کے خلاف رہی ہیں انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی بھی ٹیم کو کمزور نہیں سمجھا جا سکتا۔ لاسن نے آسٹریلوی ریڈیو کو دیےگئے اپنے اس انٹرویو سے قطعاً انکار کیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر سلیکٹرز سے اختلافات اور سینئر کرکٹرز کی نہ سیکھنے کی بابت بات کی تھی۔ لاسن نے کہا چیف سلیکٹر سے ان کے اختلافات نہیں اور وہ ان کے اچھے دوست ہیں۔ | اسی بارے میں سہ فریقی سیریز، پاک ٹیم کا اعلان02 June, 2008 | کھیل کراچی: پاکستان کی ایک اور فتح20 April, 2008 | کھیل بنگلہ دیش، زمبابوے ایک جیسے:شعیب19 April, 2008 | کھیل پاکستان نے سیریز کلین سویپ کرلی19 April, 2008 | کھیل مسلسل گیارہویں فتح پر نظریں18 April, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||