کوئٹہ میں دھماکہ، پانچ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں سریاب کے علاقے میں دھماکے سے پانچ بچے ہلاک اور ایک خاتون سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکہ کلی گشکوری میں ایک افغانی خاندان کےگھر میں ہوا ہے۔ دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔ پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ دھماکہ گھر کے اندر ہوا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ دھماکہ کس چیز سے ہوا ہے۔ رحمت اللہ نیازی کے مطابق اس وقت ماہرین جانچ پڑتال کر رہے ہیں اور گھر کے اندر کافی سکریپ پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گھر میں بیشتر بچے کچرا اٹھانے کا کام کرتے ہیں۔ ہسپتال لائے گئے بچوں کے رشتہ دار نے بتایا ہے کہ بچے باہر سے کوئی چیز کھیلنے کے لیے لائے جس سے دھماکہ ہوا۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں دو دو لاشیں لائی گئیں جبکہ بی ایم سی کے بچہ وارڈ میں ایک بچہ دم توڑ گیا۔ ہسپتال میں موجود ڈاکٹر رتن کمار نے بتایا ہے کہ بچوں کو گہرے زخم آئے تھے جبکہ پانچ زخمی اس وقت بھی ہسپتال میں موجود ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں ایک خاتون اور بڑا لڑکا شامل ہے جبکہ باقی سب کی عمریں دس سال سے کم بتائی گئی ہیں۔ بلوچستان میں ایک طرف افغانستان اور دوسری جانب ایران سے بڑی مقدار میں سکریپ لایا جاتا ہے جو بعد میں ملک کی بڑی ملوں کو پہنچا دیا جاتا ہے۔ اکثر اس سکریپ میں دھماکہ خیز مواد بھی ہوتا ہے۔ ایران کی سرحد کے قریب واقع شہر تفتان میں قریباً دو سال پہلے اسی طرح کے دھماکے سے ایک مزدور ہلاک جبکہ کوئٹہ میں ایک مل میں دھماکے سے پانچ مزدور زخمی ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں لاہور، گیس سلنڈر دھماکہ، پانچ ہلاک10 April, 2008 | پاکستان سلنڈر دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ02 April, 2008 | پاکستان لاہور:فوجی کالج پر حملہ، چھ ہلاک 04 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||