BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 April, 2008, 10:54 GMT 15:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد بند، تفتان کے عوام مشکل میں

تفتان
تفتان کے علاقے کا سرحدی حصہ جس پر ایران کی جانب دروازے بنائے گئے ہیں جنہیں بند کر دیا جاتا ہے
پاکستان کی جانب سے چاول کی ترسیل روکنے کے بعد ایران نے سرحد بند کر دی ہے جس سے بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

تفتان کے تحصیل نائب ناظم جلیل محمدانی نے بتایا ہے کہ ’سرحد پر تعینات فرنٹیئر کور نے پاکستان سے ایران کے لیے چاول کی ترسیل روک دی ہے جس کے بعد ایران کے سرحدی شہر میں لوگوں نے احتجاج کیا تھا اور بعد میں سرحد بند کر دی گئی۔

یہ احتجاج کچھ روز پہلے پاک ایران سرحد پر زیرو پوائنٹ پر کیا گیا تھا جس میں لوگوں نے مطالبہ کیا تھا کہ چاول کی ترسیل فوری طور پر شروع کی جائے۔

پاکستان کے سرحدی شہروں میں روزمرہ استعمال کی اشیاء خریدنے کے لیے لوگوں کا زیادہ انحصار ایران پر ہوتا ہے جن میں سبزیوں سے لے کر آٹا اور ایندھن کے طور پر استعمال کے لیے گیس اور تیل تک ایران سے آتے ہیں۔

ایران پر انحصار
 پاکستان کے سرحدی شہروں میں روزمرہ استعمال کی اشیاء خریدنے کے لیے لوگوں کا زیادہ انحصار ایران پر ہوتا ہے جن میں سبزیوں سے لے کر آٹا اور ایندھن کے طور پر استعمال کے لیے گیس اور تیل تک ایران سے آتے ہیں

جلیل محمدانی کے مطابق ضلع چاغی میں نہ تو صنعتیں ہیں اور نہ ہی زراعت، اس لیے بڑی تعداد میں لوگوں کا انحصار ایران اور پاکستان کے مابین روز مرہ اشیاء کی تجارت پر ہے۔ سرحد بند ہونے سے خصوصاً تفتان شہر میں خاموشی چھا جاتی ہے اور بازار بند ہوجاتے ہیں۔

تفتان شہر میں پاکستانی آٹے کی سو کلو کی بوری پانچ ہزار روپے میں بھی نہیں ملتی جبکہ ایرانی آٹا سستا اور معیاری ہوتا ہے جو سرحد کھلنے کی صورت میں آسانی سے مل جاتا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ پاکستانی چاول کی مانگ دنیا بھر میں بڑھ گئی ہے اور بڑی مقدار میں چاول برآمد کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق رائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندوں نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں چاول برآمد نہیں کریں گے بلکہ ملک میں یوٹیلیٹی سٹورز کے لیے دو لاکھ ٹن چاول کو ترسیل کو یقینی بنائیں گے۔

یہاں کوئٹہ میں چاول کی قیمت میں اسی فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے اور بازاروں میں اچھا چاول پچانوے اور سو روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ کچھ روز پہلے تک چاول کی قیمت ساٹھ روپے کلو تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد