BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 April, 2008, 20:07 GMT 01:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حب میں فائرنگ ، تین مزدور ہلاک

حب (فائل فوٹو)
حب میں پچھلے برس تشدد کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
بلوچستان کے شہر حب میں نامعلوم افراد نے مزدوروں کی گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس سے تین مزدور ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ حب شہر میں ڈاکخانہ روڈ پر اس وقت پیش آیا ہے جب ایک کوسٹر میں مزدور کام کرکے واپس گھروں کو جا رہے تھے۔

حب تھانے سے پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اٹک سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی مزدوروں کو لا رہی تھی کہ دو موٹر سائکل سواروں نے کوسٹر پر شدید فائرنگ کی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں تین مزدور ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو کراچی میں ہسپتال کے جایا گیا ہے۔

یاد رہے اٹک سیمنٹ فیکٹری کے علاقے میں کچھ عرصہ قبل پولیس کی موبائل گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ ہفتے نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے فرنٹییر کور یعنی نیم فوجی دستے کے تین اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا تھا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ فروری دو ہزار چھ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے تین چینی انجینئرز سمیت چار افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان میں بیشتر حملوں کی زمہ داری اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ آج جمعہ کے روز ہونے والے اس واقعہ کی زمہ داری تاحال کی تنظیم نے ابھی تک قبول نہیں کی ہے۔

بلوچستان میں ایک طرف نومنتخب حکومت کے جانب سے مذاکرات کی اپیلیں کی جا رہی ہیں اور حالات بہتر بنانے کے لیے لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جا رہا ہے اور قبائلی اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات واپس لینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن دوسری جانب قومی تنصیبات پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے کہا ہے کہ اب حکومت کو سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔

دریں اثنا کالعدم تنظیم بی ایل اے کے ترجمان بیبرگ بلوچ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری اور وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی کاوشوں کو سراہتے ہیں لیکن انہیں معلوم ہے کہ اختیارات پنجاب اسٹیبلشمنٹ اور فوج کے پاس ہیں جو نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں حالات بہتر ہوں ۔ بیبرگ بلوچ نے گورنر کے بیان پر بھی سخت تنقید کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد