وزیر اعظم ’خود کش‘ ماں کے گھر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اپنے دورہ لاہور کے دوران اچانک اس پسماندہ بستی جا پہنچے جس کی مکین ایک عورت نے چند روز پہلے غربت کی وجہ سے اپنے دو بچوں سمیت ٹرین کے نیچے آ کر خود کشی کر لی تھی۔ وزیراعظم نے بشریٰ کے والدین اور شوہر سے تعزیت کی اور کہا کہ انہیں بشریٰ کی ہلاکت کا دلی رنج ہے اوراسی لیے وہ لاہور میں اپنے گھر جانے سے پہلے اس کے گھر آئے ہیں۔ وزیر اعظم نے ہاتھ اٹھا کر بشریٰ اور اس کے بچوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور دو لاکھ روپے بطور امداد دیے۔ ساتھ ہی وعدہ کیا کہ انہیں گھر بھی فراہم کیا جائے گا۔ مکہ کالونی گلبرگ کی بشریٰ نے گزشتہ ہفتے اپنے دو بچوں چار سالہ بیٹی صائمہ اور پانچ سالہ زبیر کے ہمراہ گھر کے سامنے گزرنے والی ٹرین کے سامنے آ کر خودکشی کرلی تھی۔ بشریٰ اپنے محنت کش شوہر رمضان اور بچوں کے ساتھ ایک کمرے کے کرایہ کے مکان میں رہتی تھیں۔ ان کا شوہر ویلڈنگ کی دکان پر ملازم تھا لیکن اس آمدنی میں روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔محمد رمضان نے کہا کہ بعض اوقات بچوں کے کھانے کا بندوبست بھی نہیں ہو پاتا تھا۔ عالمی فوڈ پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس کےدوران ہونے والی مہنگائی سے پاکستان کے مزید پونے دو کروڑ افراد خوراک کی کمی جیسے حالات کا شکار ہوئے ہیں اور سولہ کروڑ آبادی کے ملک میں ان کی تعداد بڑھ کر سات کروڑ ستر لاکھ ہوگئی ہے۔
بشریٰ کے والد عارف عرف کاکا ایک ریڑھی بان سبزی فروش ہیں، وزیر اعظم کے دورہ کے دوران وہ بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم کے جانے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ مالی امداد پر وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’یہ امداد وہ کسی کو دیں یا نہ دیں لیکن مہنگائی کو توڑنے کی کوشش کریں تاکہ ان کی طرح کا ہر غریب شخص، مزدور محنت کش اپنے ہاتھوں کی کمائی سے اپنے بچوں کو روٹی کماکر دے۔‘ انہوں نے کہا کہ ہرمرنے والے کے ورثاء کوامداد نہیں ملتی اور کسی کو امداد مل بھی جائے تو کتنے عرصے چلے گی؟ کوئی اپنی بیٹی بیاہ دے گا یا سال چھ مہینے گزار دے گا اور پھر وہی حالات ہوں گے۔ عالمی ادارے کی پورٹ کے مطابق پاکستان میں غریب افراد کی قوت خرید نصف رہ گئی ہے۔ غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر خود کشی کرنے والی بشری کی ساس اور مرنے والے کم سن بچوں کی دادی نے کہا کہ اس کی ابھی تین بیٹیاں بن بیاہی ہیں، وہ کرائے کےمکان میں رہتی ہیں ان کا خاندان روزانہ ایک سو روپے کما پاتا ہے، تیس روپے کا گھی اور چالیس کا آٹا آجاتا ہے باقی زندگی کیسے بسر ہوگی؟ انہوں نے کہا ان کے لیے کچھ ایسا کیا جائے کہ وہ خود اتنا کمانے کے قابل ہوجائیں کہ وہ خود کھا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ’مہنگائی کو توڑ دو ورنہ وہ اور ان کے باقی بچے بھی مر جائیں گے اس غریبی نے کمر توڑ دی ہے ہم نہیں بچیں گے ہم مرجائیں گے۔‘ وزیر اعظم نے بشریٰ کے ورثاء سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ ان کے دور حکومت میں غربت کی وجہ سے خود کشی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وہ قوم سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے منصوبے بنائیں گے کہ لوگ غربت کی وجہ سے خود کشیاں کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اراکین پارلیمان، ناظمین نائب ناظمین اور اتحادی جماعتوں کے لوگوں سے اور مخیر افراد سے کہتے ہیں کہ وہ ضرورت مند افراد کی مدد کریں تاکہ ان کے ہوتے ہوئے اس قسم کے واقعات پیش نہ آئیں۔ لاہور کی مکہ کالونی گلبرگ کی رہائشی بشریٰ نے مرنے سے پہلے اپنے بچے کی ایک کتاب پر آخری تحریر لکھی تھی ’دنیا میں بہت دکھ ہیں، یہاں کوئی اپنا نہیں بنتا، بچوں کی بہت ساری خواہشات ہیں جسےپورا کرنا مشکل ہے۔ ان کے معصوم سوالات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں، خدا کے لیے مجھےمعاف کردیا جائے۔‘ | اسی بارے میں عارفہ اور صبا کا کوئی خواب نہ تھا11 June, 2005 | پاکستان کراچی:خاتون جج نے خودکشی کرلی03 September, 2005 | پاکستان دو خودکش حملوں میں سات ہلاک24 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||