تعمیر نو میں تاخییر پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سینکڑوں زلزلہ متاثرین نے شہر کی تعمیر نو کے کام کا آغاز نہ ہوسکنے کے خلاف احتجاج کیا۔ زلزلے کے ڈھائی سال بعد بھی شہر کی تعمیر نو کا کام شروع نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے اور بدھ کا احتجاج اسی کا اظہار تھا۔ اس مظاہرے کا انعقاد کئی سیاسی، سماجی، طلبہ اور تاجر تنظیموں پر مشتمل مظفرآباد عوامی اتحاد نے کیا تھا جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ اس اتحاد کے سربراہ سلیم پروانہ نے شہر کی تعمیر نو کا کام شروع نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’حکومت کئی ماہ سے یہ کہتی آرہی ہے کہ چند روز میں شہر کی از سر نو تعمیر کا کام شروع کیا جائے گا لیکن آج تک ان اعلانات کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔‘ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ مظفرآباد شہر کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا منصوبہ ترک کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کا کہنا ہے کہ لوگ سخت پریشان ہیں اور ذہنی کرب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’حکام اصل صورت کی وضاحت کریں اور شہر کی تعمیر نو کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے بصورت دیگر اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کیا جائےگا۔‘ آٹھ اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کے زلزلے میں تباہ ہونے والے مظفرآباد شہر کی تعمیر نو کا کام ابھی تک شروع نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور تعمیر نو کے اداروں کے خلاف ان کا غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ زلزلے سے متعلق پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے ’ایرا‘ کے ڈائریکٹر جنرل مکانات بریگیڈئیر وقار اقبال راجہ نے اس کی سختی سے تردید کی کہ شہر کو از سر نو تعمیر کرنے کا منصوبہ ترک کیا جارہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ’ تعمیر نو کا کام شروع کرنے میں ایسی کوئی تاخیر نہیں ہورہی البتہ ابتدائی سروے اور تیکینکی امور کے باعث وقت لگا۔‘ وقار راجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مظفرآباد شہر کو از سر نو تعمیر کرنے کے منصوبے پر کوئی پیننیس کڑوڑ ڈالر کی رقم خرچ کی جائے گی جس میں چین کی حکومت نے تیس کڑوڑ ڈالر کا قرض نرم شرائط پر فراہم کیا ہے جبکہ پانچ کروڑ ڈالر حکومت پاکستان فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اگلے پانچ سال میں مکمل کیا جائے گا۔ حکام کا موقف اپنی جگہ لیکن متاثرین ان کے دعوؤں پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد سے مظفرآباد سے اسلام آباد تک حکمران اور سرکاری عہدیدار اسی طرح کے واعدے کرتے آرہے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔ بدھ کے احتجاج کے دوران مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مظفرآباد شہر کی تعمیر نو کا کام فوری طور پر شروع نہیں کیا گیا تو وہ وسیع پیمانے پر احتجاج کریں گے۔ مظاہرین نے مجموعی طور پر متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں زمین پر کوئی منصوبہ نظر نہیں آرہا ہے اور متاثرین زلزلے کے ڈھائی سال بعد بھی مشکل حالات میں رہنے پر مجور ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا کہ ایک اعلیٰ کمشین تشکیل دیا جائے جو اس کی تحقیقات کرے کہ متاثرین کے لیے آنے والی رقم کہاں گئی۔ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کی سست رفتار اور منصوبے شروع کرنے میں تاخیر کے باعث لوگوں میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے اور بدھ کے روز کا احتجاج اسی کا اظہار تھا۔ | اسی بارے میں کشمیرزلزلہ متاثرین امداد کے منتظر 10 March, 2008 | پاکستان پندرہ ماہ میں صرف چورانوے سکول08 October, 2007 | پاکستان زلزلے کےدو سال بعد امدادی کام جاری04 October, 2007 | پاکستان ایرا: تنخواہوں پر کروڑوں خرچ17 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||