BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرتضی بھٹو قتل میں زرداری بری

آصف زرداری کو کئی اور مقدمات میں بھی بری کیا جا چکا ہے
سندھ ہائی کورٹ نے میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بریت کی درخواست پر بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے انہیں باعزت بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس پیر علی شاہ کی سنگل بنچ پر مبنی عدالت میں آصف علی زرداری کی جانب سے ان کے وکیل شوکت زبیدی پیش ہوئے اور انہوں نے ضابطۂ فوجداری کی شق 265-K کے تحت دائر درخواست بریت پر اپنے دلائل مکمل کیے۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے آصف علی زرداری کو بری کرنے کا حکم دیا۔ آصف زرداری کی جانب سے بریت کی درخواست سن دوہزار پانچ میں داخل کی گئی تھی۔

عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے احاطے میں موجود پپلزپارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے آصف زرداری کے حق میں نعرے بازی کی۔

اس سے قبل گذشتہ بدھ کو اس درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں آصف علی زرداری کے وکیل نے تین گواہوں کے بیان پڑھ کر سنائے تھے اور ان پر اعتراضات کیے تھے۔ آصف علی زرداری کے وکیل نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل بے قصور ہیں، ابتدائی ایف آئی آر میں بھی ان کا نام شامل نہیں تھا مگر بعد میں اس وقت کے نگران وزیر اعلیٰ کی ذاتی رنجش کی وجہ سے ان کا نام شامل کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ بیس ستمبر سن انیس سو چھیانوے کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی رہائش گاہ ستر کلفٹن کے قریب ان کے فرزند اور اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے بھائی، میر مرتضیٰ بھٹو پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے اکیس دن کے بعد ان کی بہن کی حکومت کو ان ہی کی حکومت کے منتخب کردہ صدر فاروق احمد خان لغاری نے برطرف کر دیا تھا۔ اور اب پپلزپارٹی کے وزیراعظم کے منتخب ہونے کے پندرہ روز بعد آصف زرداری کو اس مقدمہ سے بریت کی نوید سنائی گئی۔

اس قتل میں اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری، سابق وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ، ڈی آئی جی کراچی شعیب سڈل، ایس ایس پی واجد درانی، اے ایس پی رائے طاہر، اے ایس پی شاہد حیات، پولیس افسر شبیر قائم خانی اور آغا طاہر ملزم قرار دیئے گئے تھے۔

واقعے کی چار مختلف ایف آئی آر دائر کی گئی تھیں، جبکہ ایک سو دو گواہ تھے جن میں مرتضیُ بھٹو کی اہلیہ غنویٰ بھٹو اور بیٹی فاطمہ بھٹو بھی شامل تھیں۔ دس سالوں میں بتیس گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں جبکہ وزیراعلٰی ہاؤس کے دو سپاہیوں سمیت ستر گواہوں کے بیانات باقی ہیں۔

ابتدائی ایف آئی آر میں آصف زرداری کا نام شامل نہیں تھا مگر بعد میں ایک گواہ اصغر علی کے اس بیان کے بعد ان کا نام شامل کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ اس نے زخمی مرتضٰی بھٹو کو عاشق جتوئی سے یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا کہ ’آصف علی زرداری اور وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ نے پولیس سے یہ کام کروالیا اور وہ جیت گئے ہم ہار گئے‘۔

ایک طویل عرصے میں جہاں کئی حکومتیں تبدیل ہوچکی ہیں وہاں اس مقدمے کے چار ججز بھی تبدیل ہو چکے ہیں اور اب بھی سیشن عدالت شرقی کراچی میں یہ مقدمہ زیر سماعت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد