سابق صوبائی وزیر کا بیٹا اغوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر بلدیات سرحد سردار محمد ادریس کے جوان سال صاحبزادے کو نامعلوم ملزمان نے 5 کروڑ روپے تاوان کے لیے اغواء کر لیا۔ مغوی ایبٹ آباد سے حصول تعلیم کےلیے مری روڈ راولپنڈی میں واقع ایک پرائیویٹ لاء کالج میں زیر تعلیم تھے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ سرحد کے سابق وزیر بلدیات اور ایم ایم اے سرحد کے رہنما سردار ادریس کے صاحبزادے سردار عتیق کو نامعلوم افراد نے کچھ روز قبل راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کالا خان سے اغواء کر لیا تھا اور گزشتہ روز سردار ادریس کو موبائل ٹیلیفون کے ذریعے اغواء کاروں نے بیٹے کی رہائی کےلیے پانچ کروڑ روپے تاوان طلب کیا ہے۔ تھانہ صادق آباد پولیس نے سردار عتیق کے اغواء کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے ارکان نے مغوی کے کالج کے دوستوں اور اس کے اساتذہ سے عتیق کے بارے میں پوچھ گچھ کی ہے اور اس حوالے سے ان کے بیانات بھی قلمبند کیے ہیں۔ سٹی پولیس افسر راولپنڈی سید سعود عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ مغوی کے والد سردار ادریس کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد اس کے بیٹے کا اس وقت سے ہی پیچھا کر رہے تھے جب وہ ویک اینڈ گزارنے کے بعد کالج جانے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ پولیس نے مغوی عتیق کے زیر استعمال موبائیل فون کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے اور سی پی او کا کہنا ہے کہ پولیس بہت جلد ملزمان کو گرفتار کرکے مغوی کو برامد کرلے گی۔ سٹی پولیس افسر کا کہنا ہے کہ پولیس ایسی حکمت عملی اپنائے گی جس سے اغواء کار مغوی کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ واضح رہے کہ سردار ادریس سنہ دوہزار دو میں ہونے والے عام انتخابات میں آزاد حثیت میں صوبہ سرحد کے رکن منتخب ہوئے تھے بعدازاں انہوں نے متحدہ مجلس عمل میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور وہ صوبہ سرحد کی سابق حکومت میں وزیر بلدیات تھے۔ | اسی بارے میں وزیرستان: تعمیراتی کمپنی کےاہلکاراغواء14 January, 2008 | پاکستان گلوکار علی ظفر اغوا، تاوان پر رہا13 January, 2008 | پاکستان پاکستانی سفیر: پیش رفت نہیں11 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||