BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 March, 2008, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: پی پی کو تین اور کی حمایت

بلوچستان سکیورٹی اہلکار
ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیش بوگی میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔
بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے دو اور جمیعت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے نظریاتی دھڑے کے آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے رکن نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

جبکہ دوسری طرف ڈیرہ بگٹی میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی اور اور ڈیرہ اللہ یار میں بجلی کے کھمبوں کو دھماکوں سے اڑا دیا۔

کوئٹہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی قائدین نے اپنی جماعت کے اندر اور دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد اراکین سے رابطے کیے ہیں۔

پہلے مرحلے میں عوامی نینشل پارٹی کے دو اراکین زمرک خان اور سلطان ترین نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ جمیعت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے نظریاتی دھڑے کے آزاد حیثت سے منتخب ہونے والے عبدل خالق بشر دوست نے بھی پیپلز پارٹی کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔

عوامی نینشل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر زمرک خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ بلوچستان اور یہاں بسنے والے افراد کی بہتری کے لیے انھوں نے پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جلد بلوچستان میں حکومت قائم کر لے گی۔

گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے رہنما صادق عمرانی نے نواب اسلم رئیسانی کو پارلیمانی لیڈر منتخب کرنے پر احتجاج کیا تھا۔ تاہم اس بارے میں پیپلز پارٹی کے رہنما میر باز کھیتران نے کہا ہے کہ معاملہ حل کر لیا گیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ قاف نے ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی ہے جو اپنی جماعت کے اندر اور دیگر جماعتوں سے رابطے کر کے مسلم لیگ کی حکومت قائم کرنے کے لیے کوشش کرے گی۔

ادھر پولیس کے مطابق ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیش بوگی میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم گاڑی کو نقصان پہنچا۔

کالعدم تنظیم بلوچ لیبریشن آرمی کے ترجمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے سرباز بلوچ نے گاڑی پر حملے کی ذمہ واری قبول کی اور دعویٰ کیا کہ اس واقعہ میں سکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے۔

اس کے علاوہ ڈیرہ اللہ یار میں بجلی کے دو کھمبوں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا جس سے قریبی علاقوں کو بجلی کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد