شیرپاؤ پر خودکش حملہ، درجنوں افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کے مطابق صوبہ سرحد کے شہر چارسدہ میں سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ پر ایک خودکش حملے میں کم سے کم ’38 افراد‘ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں وفاقی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم اڑتیس بتائی ہے۔ دیگر اطلاعات اور مقامی اہلکاروں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق اس حملے میں زخمیوں کی تعداد ایک سو کے قریب ہے جنہیں طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتالوں تک پہنچایا جارہا ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ حملے کے وقت آفتاب شیرپاؤ پشاور سے چالیس کلومیٹر دور اپنے گھر کے قریب ایک مسجد میں میں لوگوں سے عید مِل رہے تھے۔ حملے کے وقت مسجد میں تقریباً ایک ہزار لوگ جمع تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ مسجد آفتاب شیرپاؤ کی رہائش گاہ کے احاطے کے اندر واقع ہے۔
آفتاب شیرپاؤ پر آٹھ ماہ میں یہ دوسرا حملہ ہے۔ وہ آئندہ ماہ کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں بمبار نے خود کو اڑا دیا۔ پولیس افسر خالد خان نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ آفتاب شیرپاؤ اور ان کے بیٹے اس حملے میں بچ گئے ہیں۔ آفتاب شیرپاؤ کے ترجمان سلیم شاہ نے بتایا: ’واضح ہے کہ شیرپاؤ نشانے پر تھے۔‘ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کہنا ہے کہ گزشتہ چھ مہینوں کے دوران پاکستان میں متعدد خودکش حملے ہوئے ہیں۔ ایسے حملوں میں 200 فوجیوں سمیت لگ بھگ چھ سو افراد مارے گیے ہیں۔ | اسی بارے میں شیرپاؤ پر حملہ: مرنے والے 28 ہو گئے29 April, 2007 | پاکستان ہلاکتیں 50 تک ہو سکتی ہیں: شیرپاؤ07 April, 2007 | پاکستان ’حملہ آور شیرپاؤ کی جانب بڑھ رہا تھا‘28 April, 2007 | پاکستان خودکش حملہ: چوبیس ہلاک، شیرپاؤ زخمی28 April, 2007 | پاکستان شیرپاؤ کے خلاف نیب کی درخواست15 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||