راشد رؤف کے ماموں کا بھی ریمانڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے برطانیہ کو مطلوب راشد رؤف کے ماموں محمد رفیق کی اس مقدمے میں باقاعدہ گرفتاری ڈال دی ہے اور ان کا اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں پانچ دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔ محمد رفیق کو بدھ کے روز اینٹی کرپشن راولپنڈی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل سب انسپکٹر عبدالستار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم محمد رفیق بھی اس وقت گاڑی میں سوار ہوکر راشد رؤف کو پولیس اہلکاروں کے ساتھ اڈیالہ جیل چھوڑنے جا رہے تھے جب وہ پولیس کی حراست سے فرار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی اداروں کے اہلکاروں نے راولپنڈی جناح پارک میں واقع ایک امریکی ریسٹورنٹ کے کلوز سرکٹ کیمرے سے لی گئی تصاویر دیکھی ہیں۔ ان تصاویز میں ملزم راشد رؤف اور اس کی سکیورٹی پر معمور دو پولیس اہلکار محمد طفیل اور نوابزادہ کھانا کھا رہے تھے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ اس وقت ملزم راشد رؤف کو ہتھکڑی نہیں لگی ہوئی تھی۔ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے اڈیالہ روڈ پر واقع اس مسجد کے امام قاری فیض سے پوچھ گچھ کی ہے اور اس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مذکورہ دو پولیس اہلکار اور ان کے ساتھ ایک اور شخص نماز پڑھنے کی غرض سے مسجد میں آئے تھے۔ گرفتار ہونے والے اسلام آباد پولیس کے ان دو سپاہیوں نے اس مقدمے کے تفتیشی افسران کو بتایا کہ وہ اور ملزم وضو کرنے کی غرض سے مسجد کی بیسمنٹ میں گئے جہاں پر ملزم بیسمنٹ میں جانے کی بجائے وہاں سے فرار ہوگیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی چار رکنی اعلی سطحی ٹیم جنہوں نے اپنی رپورٹ تیا ر کی ہے۔ اس رپورٹ میں آٹھ دسمبر کو ملزم راشد رؤف کی عدالت میں پیشی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پیشی کے موقع پر ملزم راشد رؤف کے بیوی بچے اور اس کے قریبی رشتہ دار بھی کچہری کے احاطے میں موجود تھے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس پیشی کے بعد ملزم راشد رؤف کو سرکاری گاڑی میں اڈیالہ جیل لیکر جانے کی بجائے اس کے چچا کی گاڑی پر اڈیالہ جیل چھوڑنے گئی۔ ’راستے میں راشد رؤف کے بیوی بچے جو بھی وہاں آگئے اور ان تمام افراد اور ان پولیس اہلکاروں نے اڈیالہ روڈ پر واقع ایک ہوٹل پر کھانا کھایا۔‘ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مذکورہ پولیس اہلکار ملزم راشد رؤف کو اس کے خالو کے گھر لیکر جاتے رہے اور وہاں پر کھانا کھاتے رہے ہیں اور ملزم کو اس کے ماموں محمد رفیق کی گاڑی پر اڈیالہ جیل چھوڑ کر آتے رہے ہیں۔ پولیس کی زیر حراست دونوں سپاہیوں کے بیانات کی روشنی میں اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے اہلکار راشد روف کے مبینہ قریبی دوستوں کی تلاش کر رہے ہیں جو راشد رؤف کی پیشی کے دوران کچہری میں موجود تھے۔ اس بات کا امکان ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم آج اپنی رپورٹ وزات داخلہ کو بھجوا دے گی۔ اے ایس پی مارگلہ سرکل مقدس حیدر کے مطابق ملزم راشد روف کے خالو محمد ظہور اپنے گھر پر ہیں اور ان کو پوچھ گچھ کے لیے پولیس اسٹیشن طلب کیا جاتا ہے ۔ واضع رہے کہ راشد روف کو اگست دو ہزار چھ میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے خلاف تھانہ آئیرپورٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں راشد رؤف پولیس حراست سے فرار15 December, 2007 | پاکستان راشد رؤف کے فرار پر برطانوی تشویش16 December, 2007 | پاکستان راشد رؤف کے رشتے دار گرفتار17 December, 2007 | پاکستان راشد: پولیس اہلکاروں کا ریمانڈ18 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||