راشد: پولیس اہلکاروں کا ریمانڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد پولیس کےدو اہلکاروں کا راشد رؤف کے فرار میں مدد دینے کے الزام میں چھ دن کا ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔ ملزمان کانسٹیبل نوابزادہ اور محمد طفیل کو منگل کے روز راولپنڈی میں اینٹی کرپشن کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اس کا چھ دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ راشد رؤف کے قریبی رشتہ داروں جن میں ان کے ماموں محمد رفیق اور خالو محمد ظہور شامل ہیں کو اس مقدمے میں شامل تفتیش ضرور کیا گیا ہے لیکن ان کو عدالت میں پیش کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راشد رؤف کے یہ دونوں رشتہ دار تھانہ مارگلہ کی تحویل میں نہیں ہیں۔ ادھر پیر کی شب ان پولیس اہلکاروں نے اس مقدمے کے تفتیش کرنے والے فسران کو بتایا ہے کہ واقعہ کے روز راشد رؤف نے راولپنڈی میں جناح پارک میں واقع ایک فاسٹ فوڈ ریستورینٹ سے خود بھی برگر کھایا تھا اور انہیں بھی کھلایا تھا جہاں سے وہ نماز پڑھنے کے بہانے فرار ہوگیا۔ ان پولیس اہلکاروں کے بیان کی روشنی میں ملک کے تحقیقاتی اداروں نے اس ریسٹورینٹ کے کلوز سرکٹ کیمرے کی فوٹیج حاصل کرلی ہے جس کے بعد اس ریسٹورینٹ کی انتظامیہ سے ان افراد کے بارے میں چھان بین شروع کر دی ہے جو جس وقت اس ریسٹورینٹ میں موجود تھے تاہم ابھی تک تحقیقاتی اداروں کو اس بارے میں کامیابی نہیں ملی۔ ادھر ڈی آئی جی جیل خانہ جات عبدالستار عاجز نے جو کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں قائم کردہ چارہ رکنی کمیٹی کے رکن ہے منگل کو اڈیالہ جیل کا دورہ کیا اور اس ضمن میں جیل حکام کے بیانات قلمبند کیے۔ اڈیالہ جیل کے قائم مقام سپرنٹنڈینٹ محسن رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ جیل انتظامیہ نے اسلام آباد پولیس کو آگاہ کردیا تھا کہ راشد رؤف کے لیے خصوصی سیکورٹی فراہم کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ راشد رؤف کے فرار ہونے والے واقعہ سے پہلے تین مرتبہ اسے اسلام آباد کی عدالت میں پیش کیا گیا اور تینوں مرتبہ یہی پولیس اہلکار اس کو لینے کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک قیدی کی جیل کے دروازے سے نکلنے کے بعد اس کی حفاظت کی تمام ذمہ داری ان پولیس اہلکاروں پر عائد ہوتی ہے جو اس کو لینے کے لیے آئے تھے۔ وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں چار رکنی اعلی سطحی کمیٹی اس واقعہ کی تعقیقات کر رہے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ یہ کمیٹی منگل کو اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کر دے گی۔ | اسی بارے میں راشد رؤف پولیس حراست سے فرار15 December, 2007 | پاکستان راشد رؤف کے فرار پر برطانوی تشویش16 December, 2007 | پاکستان راشد رؤف کے رشتے دار گرفتار17 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||