BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 December, 2007, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان فوج کا نیا کاروبار

بکرا منڈی (فائل فوٹو)
کراچی کے باہر سپر ہائی وے پر قربانی کے جانوروں کی منڈی کا انتظام فوج کے ہاتھ میں ہے
پاکستان میں فوج نے دیگر کاروباری شعبوں میں شرکت کے بعد اب قربانی کے جانوروں کے کاروبار میں بھی شراکت داری کرلی ہے۔عیدِ قربان کی آمد آمد ہے اور کراچی سے باہر سپر ہائی وے کے دونوں جانب قربانی کے جانوروں کی اس سال بھی بہت بڑی منڈی لگائی گئی ہے جس کا انتظام فوج کے ہاتھ میں ہے۔

قربانی کے جانوروں کی منڈی میں داخلہ کا کرایہ فوج وصول کرتی ہے اور اس مد میں لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں جس کے بعد منڈی میں سہولیات بہم پہنچانے کے لیے ایک نجی ٹھیکیدار کو ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔

ٹھیکیدار عمران نے بی بی سی کو بتایا کہ منڈی میں داخل ہوتے وقت فی بکرا ڈھائی سو روپے اور فی گائے پانچ سو روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو فوج وصول کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قربانی کے لیے لائے گئے ان جانوروں کے لیے یہاں پچاس ایکڑ جگہ سپر ہائی وے کے ایک جانب مختص کی گئی ہے جبکہ دوسری جانب بھی اتنی ہی جگہ ہے جہاں بکروں اور گائے کی الگ الگ منڈیاں لگائی گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ منڈی میں بجلی، پانی اور دیگر سہولیات بہم پہنچائی گئیں ہیں۔

دوسری جانب جانوروں کے ایک بیوپاری جمیل احمد نے بتایا کہ وہ رانی پور سے پندرہ گائیں فروخت کے لیے لائے ہیں لیکن فوج منڈی میں جگہ دینے کے بہت زیادہ پیسے لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جگہ کے لیے انہوں نے پندرہ ہزار روپے فیس دی ہے لیکن یہاں پانی کی سہولت نہیں ہے اور پانی الگ پیسے دے کر خریدنا پڑتا ہے۔

کرایہ فوج کا، انتظام ٹھیکیدار کا
 قربانی کے جانوروں کی منڈی میں داخلہ کا کرایہ فوج وصول کرتی ہے جس کے بعد منڈی میں سہولیات بہم پہنچانے کے لیے ایک ٹھیکیدار کو ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔

نوابشاہ سے بکرے فروخت کے لیے لانے والے ایک اور بیوپاری عبدالخالق نے کہا کہ جس طرح سے ٹیکس لیا جاتا ہے اس طرح سے سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں اور جب شکایت کی جاتی ہے تو کچھ نہیں ہوتا۔انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کمیشن لے کر سامنے کی جانب جگہ فراہم کر رہی ہے اور ان کو پیچھے جگہ دی ہے کیونکہ انہوں نے ٹیکس کے علاوہ پیسے نہیں دیئے اور یہاں روشنی کا انتظام بھی نہیں ہے۔

ایک جانب انتظامیہ دعویٰ کرتی ہے کہ منڈی میں لائٹ کا انتظام کرنا ان کی ذمہ داری ہے تو دوسری جانب منڈی کے اندر لائٹ اور ڈیکوریشن والوں کو بھی کیبن فراہم کیےگئے ہیں اور ایک بلب کا کرایہ چالیس روپے فی رات وصول کیا جاتا ہے۔
جہاں بیوپاری ٹیکس اور سہولیات کی طرف سے پریشان ہیں وہیں انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ ان کے ایک بیوپاری اللہ ڈنو نے خدشہ ظاہر کیا کہ منڈی میں ان کو اچھے بھاؤ نہیں ملیں گے کیونکہ خریدار بہت کم پیسے لگا ر ہے ہیں جبکہ اس سال خرچہ اور ٹیکس بہت زیادہ ہیں۔

جانوروں کے بیوپاری اگر خوش نظر نہیں آتے تو خریدار بھی مہنگائی کی دہائی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ایک خریدار نے بتایا کہ جو بکرا پچھلے سال سات سے دس ہزار کے درمیان مل جاتا تھا وہی اب پچیس ہزار سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پانچ گھنٹوں سے منڈی میں مناسب قیمت میں بکرا ڈھونڈ رہے ہیں لیکن اس مہنگائی میں قربانی کا فریضہ انجام دینا مشکل نظر آرہا ہے۔

جہاں لوگ مہنگائی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں وہیں شہر کے ایک متمول شخص جانوروں کے بیوپاری محمد عادل سے پچیس لاکھ روپے کی گائے خرید کر لے گئے ہیں۔ محمد عادل نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فارم پر ڈیڑھ سو کے قریب گائیں پال رکھی ہیں ان میں سے سب سے مہنگی گائے فروخت ہوچکی ہے جبکہ باقی گائیں اسّی ہزار سے دس لاکھ تک کی موجود ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام گائیں اچھی قیمت میں فروخت ہوجائیں گی۔

منڈی میں کرایہ
 فوج منڈی میں ایک گائے کو جگہ دینے کے لیے پانچ سو روپے فیس لے رہی ہے لیکن سہولتیں ناکافی ہیں۔
بیوپاری جمیل احمد

اسی طرح نوراللہ مہر اپنے بکروں کی جوڑی کی قیمت دس لاکھ روپے مانگ رہے ہیں لیکن ان کے بکروں کی جوڑی کی قیمت چار لاکھ سے زیادہ نہیں لگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اتنے مہنگے بکرے خریدنے سے بہتر ہے کہ وہ کوئی اچھی سی کار یا پلاٹ نہ خرید لیں۔

منڈی میں چائے، کھانے پینے کی اشیاء، چارپائیوں، اور جانوروں کو سجانے کی مختلف اشیا کے کیبن بھی نظر آتے ہیں جبکہ جانوروں کے ڈاکٹر بھی یہاں موجود ہیں۔ ڈاکٹر کشور کمار کہتے ہیں کہ سردی کی وجہ سے جانور معمولی بیمار ہوتے ہیں لیکن ان میں کوئی بڑی بیماری کی شکایت نہیں ملی ہے۔

مویشیوں کی یہ منڈی تقریباً سو ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے اور ابھی جانوروں کے بیوپاریوں کی آمد جاری ہے جو اپنے جانور اچھے داموں فروخت کرنے کی امید لے کر آرہے ہیں۔

اسی بارے میں
’فوج کو سیاست سے الگ رکھیں‘
28 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد