BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 November, 2007, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سابق وزیر خودکش حملے کا شکار

پشاور میں جمعہ کوہونے والا خودکش حملہ
صوبے میں کسی وفاقی وزیر پر رواں سال کے دوران ہونے والا یہ دوسرا خودکش حملہ ہے
صوبہ سرحد کے ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے اہم سیاسی رہنما اور سابق صوبائی وزیر پیر محمد خان جو جمعہ کو پشاور میں ہونے والے خود کش بم حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، سنیچر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔

پشاور کے حیات آباد علاقے میں وفاقی وزیر امیر مقام کے گھر پر جمعہ کو ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔

وفاقی وزیر برائے سیاسی امور امیر مقام حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ صوبہ سرحد کے صدر ہیں۔ جس وقت خود کش حملہ ہوا، امیر مقام اس وقت گھر پر موجود تھے لیکن وہ محفوظ رہے۔ حملے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ پیر محمد خان جو کہ وفاقی وزیر کے قریبی رشتہ دار ہیں ان کے سر پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔

حیات آباد پولیس تھانے کے ایک اہلکار نے پیر محمد خان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ ’ہمیں دن تقریباٌ سوا بارہ بجے اطلاع ملی کہ وہ انتقال کرگئے ہیں‘۔

بم حملے میں زخمی ہونے کے بعد پیر محمد خان کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سرجیکل وارڈ میں داخل کردیا گیا تھا۔

امیر مقام’جنگ جاری رہے گی‘
حملوں سے حوصلے پست نہیں ہوں گے:امیر مقام
دھماکے کے متاثرینخود کش حملے، تاریخ
پاکستان: پہلا خودکش حملہ 1995 میں ہوا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد