سابق وزیر خودکش حملے کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے اہم سیاسی رہنما اور سابق صوبائی وزیر پیر محمد خان جو جمعہ کو پشاور میں ہونے والے خود کش بم حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، سنیچر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ پشاور کے حیات آباد علاقے میں وفاقی وزیر امیر مقام کے گھر پر جمعہ کو ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے سیاسی امور امیر مقام حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ صوبہ سرحد کے صدر ہیں۔ جس وقت خود کش حملہ ہوا، امیر مقام اس وقت گھر پر موجود تھے لیکن وہ محفوظ رہے۔ حملے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ پیر محمد خان جو کہ وفاقی وزیر کے قریبی رشتہ دار ہیں ان کے سر پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔ حیات آباد پولیس تھانے کے ایک اہلکار نے پیر محمد خان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ ’ہمیں دن تقریباٌ سوا بارہ بجے اطلاع ملی کہ وہ انتقال کرگئے ہیں‘۔ بم حملے میں زخمی ہونے کے بعد پیر محمد خان کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سرجیکل وارڈ میں داخل کردیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں پشاور: وزیر کے گھر حملہ، چار ہلاک09 November, 2007 | پاکستان پشاور کے میوزک بازار میں دھماکہ09 October, 2007 | پاکستان پشاور میں دھماکہ، اٹھارہ زخمی08 September, 2007 | پاکستان پشاور:سکریپ میں دھماکہ،ایک ہلاک09 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||