ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | فائل فوٹو: سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو |
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ منگل کے بم دھماکے کے باوجود وہ اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق راولپنڈی ضرور جائیں گی۔ بینظیر بھٹو نے نو نومبر کو راولپنڈی میں جلسۂ عام کا اعلان کیا ہوا ہے۔ کراچی میں منگل کے روز بینظیر بھٹو بغیر سیکیورٹی اہلکاروں کے اپنی گاڑی میں ضیا الدین ہسپتال پہنچ گئیں، وہاں زخمی کارکنوں کی عیادت کی اور اپنا چیک اپ کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہ اکتوبر سے ان کے پاؤں میں سوجن ہوگئی ہے۔ بینظیر بھٹو نے راولپنڈی بم دھماکے کے حوالے سے کہا کہ انہیں ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے مگر وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم پہلے ہی انٹیلیجنس بیورو پر شک کا اظہار کر چکے ہیں مگر اس شک کو دور کرنے کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے ہیں، ہمیں شک ہے کہ اٹھارہ اکتوبر کو سفید آلٹو کار میں بم دھماکہ ہوا تھا۔‘ پیپلز پارٹی کی سربراہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے انٹلیجنس ادارے ہر دور میں خود ساختہ رہنما پیدا کرتے رہے ہیں۔ پہلے انہیں پروان چڑھاتے ہیں اور کام نکل جانے کے بعد انہیں ماردیا جاتا ہے، جیسے نیک محمد اور غازی عبدالرشید کو بنایا گیا اب مولانا فضل اللہ کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ سوات میں جو کچھ بھی رہا ہے وہ جمہوریت کو غیرمستحکم کرنے اور اسے تباہ کرنے کی کوشش ہے۔ بینظیر بھٹو کے مطابق قومی مفاہمت پر ایوان صدر خاموش ہے، قومی مفاہمتی آرڈیننس صدر نے جاری کیا تھا اور کابینہ نے اس کی منظوری دی تھی مگر اب مفاہمت نہ چاہنے والے عناصر بیان بازی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب بینظیر بھٹو نے گزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اٹھارہ اکتوبر سے ایک مشبہ شخص ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ ’اس روز ایک شخص درخت پر بیٹھ کر تصاویر بنا رہا تھا، میں نے معلوم کیا کہ یہ کس کی تصویریں بنا رہا ہے اور پولیس اور سیکیورٹی والوں کو اس کی طرف بھیجا تو وہ فرار ہوگیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ کے دورے پر بھی انہوں نے اسی شکل، قد اور لباس کے آدمی کو دو مرتبہ دیکھا ہے۔ |