جلاوطنی: وزیراعظم اور دیگر کو نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے نواز شریف کی جلاوطنی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کے سلسلے میں وزیراعظم سمیت تیرہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو سابق وزیر اعظم کے پاسپورٹ پر ایگزٹ مہر کی بارے میں معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک چار رکنی بنچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف کے وکیل فخرالدین جی ابراہیم نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کو دوبارہ جلا وطن کرنے کو نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا بلکہ سپریم کورٹ کے تئیس اگست کے اس فیصلے کی بھی خلاف ورزی قرار دیا جس میں انہیں واپس آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ایک ریمارک دیتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف نے اپنی مرضی سے پاسپورٹ حکام کے حوالے کیا ہے اور اس پر ایگزٹ کی مہر موجود ہے تو پھر کوئی کیس نہیں بنتا۔ ممتاز ماہر قانون فخرالدین جی ابراہیم کے ذریعے دائر کی گئی آئینی درخواست میں تیرہ افراد اور اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ ان کے استفسار پر کہ ملکی سیاسی حالات کے پیش نظر ان کی سماعت جلد سنی جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں سب معلوم ہے اور وہ اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم کرنے دیں کہ کس نے اس جلاوطنی کا حکم دیا اور کیوں سڑکیں بند کی گئیں۔ جسٹس افتخار چوہدری کا کہنا تھا: ’کسی کو تو جواب کے ساتھ سامنے آنے دیں۔‘ چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت کے لیے ایک سات رکنی بینچ بنایا جائے گا۔ چیف جسٹس نے تمام فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پی آئی اے کے چیئرمین ظفر ایم خان اور سول ایوی ایشن کے ڈی جی فاروق رحمت اللہ کو حکم دیا کہ وہ اسلام آباد ائر پورٹ کا دس ستمبرکا مکمل فلائٹ ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کریں۔ جسٹس راجہ فیاض نے سماعت کے دوران فخرالدین جی ابراہیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتنے دن گزر چکے ہیں لیکن نواز شریف نے ابھی تک بیان حلفی بھی جمع نہیں کرایا ہے۔ اس پر فخرالدین کا کہنا تھا کہ وہ بھی جلد جمع کر دیا جائے گا۔ پی آئی اے کے سربراہ کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ عدالت کو اس بات سے آگاہ کریں کہ جدہ جانے والی فلائٹ کس کے حکم پر بھیجی گئی۔ عدالت نے ایف آئی اے کے ڈی جی طارق پرویز کو حکم دیا کہ وہ نواز شریف کی امیگریشن اور ایگزٹ سٹیمپ سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ جب نواز شریف کے وکیل فخرالدین جی ابراہیم نے درخواست کی جلد سماعت کی استدعا کی تو بینچ کے سربراہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ عدالت اس کیس پر بہت سنجیدہ ہے لیکن سماعت تب ہی ہو سکتی ہے جب تمام فریقین عدالتی نوٹس کا جواب داخل کرائیں گے۔ آئینی درخواست فریق بنائے جانے والے تیرہ اداروں میں وفاقِ پاکستان، صوبہ پنجاب بذریعہ چیف سیکریٹری، وزیر اعظم شوکت عزیز، وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ، وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ، آئی جی پنجاب احمد نسیم، چیئرمین نیب نوید احسن، سی سی پی او راولپنڈی مروت شاہ، نیب کے اہلکار کرنل (ریٹائرڈ) افضل، ڈی جی رینجرز میجر جنرل ہارون، ڈی جی ایف آئی اے طارق پرویز، چیئرمین پی آئی اے ظفر اے خان اور ڈی جی سول ایوی ایشن فاروق رحمت اللہ شامل ہیں۔ عدالت نے فریقین کو اپنے جوابات آئندہ سماعت سے پہلے جمع کرانے کا حکم دیا تاکہ نواز شریف کے وکلاء ان کا جائزہ لے سکیں۔ | اسی بارے میں نواز: جلا وطنی کے خلاف پٹیشن11 September, 2007 | پاکستان ’نواز شریف کو دھوکے سے جدہ بھیجا‘11 September, 2007 | پاکستان شریف فیملی کیسز، سماعت پھر ملتوی13 September, 2007 | پاکستان سعودی عرب کے خلاف زبان بندی کا فیصلہ19 September, 2007 | پاکستان نواز کا فائیو سٹار خواب19 September, 2007 | پاکستان نوازشریف فلاپ شو کاذمہ دار کون؟22 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||