نثار کھوکھر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر |  |
 | | | وہ کمیونسٹ پارٹی آف پا کستان کے سرگرم کارکن رہے |
ترقی پسند سندھی ادیب اور سینئر وکیل نورالدین سرکی حرکت قلب بند ہونے پر کراچی کے ضیاءالدین ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر پچاسی برس تھی۔ ان کی نماز جنازہ بدھ کو خیابان اتحاد میں ان کی رہائش گاہ کے قریب ادا کی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد سمیت کئی ججوں، ایڈووکیٹ جنرل، جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ، زین شاہ ، سندھی ادیبوں اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔ نورالدین سرکی نے اپنی سیاست کا آغاز زمانہ طالب علمی سے شروع کیا اور وہ کمیونسٹ پارٹی آف پا کستان کے سرگرم کارکن رہے۔ وہ انجنیئرنگ کے طالبعلم تھے لیکن سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے اس تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ بعد میں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے سندھی ادب میں ایم اے کیا اور اسلامیہ کالج میں لیکچرر مقرر ہوگئے۔  | خیام اور شیرازی  عمر خیام اور حافظ شیرازی کی شاعری وہ اتنی ہی شوق سے سناتے تھے جتنی دلچسپی سے وہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام سنایا کرتے تھے  |
اس کے بعد انہوں نے ایل ایل بی کیا اور انیس سو باون میں وکالت کا پیشہ اختیار کر لیا اور پھر ساری زندگی اسی سے وابستہ رہے۔ نورالدین سرکی کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ آخری وقت تک ایک سرگرم سیاسی کارکن بھی رہے۔ نورالدین سرکی کے دوست اور سندھی ادیب شمشیرالحیدری کا کہنا ہے کہ سرکی کو سندھی زبان کے ساتھ ساتھ فارسی، اردو اور انگریزی ادب پر بھی عبور حاصل تھا۔ عمر خیام اور حافظ شیرازی کی شاعری وہ اتنی ہی شوق سے سناتے تھے جتنی دلچسپی سے وہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام سنایا کرتے تھے۔ ’ان کی موت کے باعث ترقی پسند ادیبوں کا قافلہ ایک اہم ساتھی سے محروم ہوگیا ہے۔‘ نورالدین سرکی کا شمار سندھی لکھاریوں کی تنظیم سندھی ادبی سنگت کی بنیاد رکھنے والے ادیبوں میں ہوتا تھا۔ نورالدین سرکی نے اپنی زندگی میں پانچ کتابوں کو ترتیب دیا۔ ان میں سے ایک ’جو تو نے شاعری سمجھی‘ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی ایسی منتخب  | سیاسی کارکنوں کا ڈیرہ  کراچی کے علاقے صدر میں پیراڈائیز لاء چیمبرز میں ان کا دفتر سیاسی کارکنوں اور ادیبوں کا ڈیرہ مانا جاتا تھا  |
شاعری پر مشتمل ہے جو نورالدین سرکی کی نظر میں سیاسی کارکنوں کے لیے حوصلہ بخش ہے۔کراچی کے علاقے صدر میں ’پیراڈائیز لاء چیمبرز‘ میں ان کا دفتر سیاسی کارکنوں اور ادیبوں کا ڈیرہ مانا جاتا تھا۔ ان کے وکیل دوست غلام شاہ کے مطابق نورالدین سرکی عمومی طور پر سیاسی کارکنوں کے مقدمے مفت ہی لڑتے تھے۔ نورالدین سرکی نے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ |