BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 July, 2007, 01:43 GMT 06:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سی آر اسلم انتقال کر گئے
سی آر اسلم
نامور کمیونسٹ رہنما سی آر اسلم ملک کے معمر ترین قانون دان بھی تھے
پاکستان میں بائیں بازو کے نامور رہنما سی آر اسلم منگل کی رات انتقال کرگئے۔ ان کی عمر اٹھانوے برس تھی۔

سی آر اسلم متحدہ پنجاب میں ضلع شیخوپورہ کےگاؤں کوٹ نظام دین کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے اور ان کا آبائی نام رحمت اللہ تھا۔ مرحوم نے گورنمنٹ ہائی سکول سانگلہ ہل سے میٹرک کیا اور کچھ عرصہ تک کاشتکاری میں اپنے والد کا ہاتھ بٹایا ۔

سی آر اسلم نے منشی فاضل کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر ایف اے اور بی اے کا امتحان پاس کیا جس کے بعد انیس سو چھتیس میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد معروف صحافی حمید نظامی کے ساتھ دوستی کے وجہ سے ان کے ہفت روزہ ’نوائے وقت‘ کے بانی رکن کی حیثیت سے اس سے منسلک ہوگئے۔

سی آر اسلم نے ملٹری اکاونٹس میں ملازمت کے دوران انیس سو چھتیس سے انیس سو اکتالیس تک کا عرصہ کراچی، کلکتہ ، متھرا اور دلی میں گزارا تھا تاہم اعلی تعلیم کے لیے لاہور آگئے جہاں انہوں نے فورمن کرسچن (ایف سی) کالج میں داخلہ لیا اور انیس سو تنیتالیس میں اقتصادت میں ایم اے کیا۔

 سی آر اسلم نے عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی سے وابستگی کے بعد انیس سو اکہتر میں پاکستان سوشلٹ پارٹی کی بنیاد رکھی جبکہ ’عوامی جمہوریت‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ رسالہ کا اجرا کیا

اسی دوران سی آر اسلم کا معروف کمیونسٹ رہنماوں اجے گھوش، دادا فیروزالدین منصور اور سردار شوکت علی سے تعلق قائم ہو گیا اور مرحوم کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن بن گئے ۔مرحوم ملک کے معمر ترین قانون دان تھے ۔

پاکستان بننے کے بعد سی آر اسلم نارتھ ویسٹرن ریلوے ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری بنے اور محنت کشوں میں نظریاتی کام کی وجہ سے انہیں فروری انیس سو اڑتالیس میں ریلوے کی ہڑتال کے بعد کئی ماہ تک قید کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ چھ برس بعد انیس سو چون میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کو غیر قانونی قرار دیئے جانے پر انہیں دوبارہ جیل جانا پڑا۔

سی آر اسلم نے عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی سے وابستگی کے بعد انیس سو اکہتر میں پاکستان سوشلٹ پارٹی کی بنیاد رکھی جبکہ ’عوامی جمہوریت‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ رسالہ کا اجرا کیا۔

سی آر اسلم کو انیس سو اکاسی میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا میں ایک مرتبہ پھر جیل جانا پڑا۔

سی آر اسلم نے نو آبادیاتی نظام، پاکستانی طبقات اور طبقاتی کشمکش، سوشلٹ تحریک اور نیشنلزم کے موضوعات پر کئی یاد گار کتابچے بھی لکھے۔

سی آر اسلم نے چار برس قبل پاکستان سوشلٹ پارٹی کو نیشنل ورکرز پارٹی میں ضم کردیا اور سیاست اور وکالت کے پیشہ سے ریٹائرمنٹ اختیار کرلی ۔

مرحوم کی نماز جنازہ بدھ کی شام پانچ بجے ادا کی جائے گی ۔

اسی بارے میں
جمیل ملک کی یاد میں
05 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد