BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 September, 2007, 19:04 GMT 00:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں چار ماہ اہم ہیں: مکینن
جنرل مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد دولت مشترکہ نے جزوی طور پر پاکستان کی رکنیت معطل کر دی تھی جسے بعد میں بحال کر دیا گیا
دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈونلڈ میکنن نے حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنماؤں اور چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے بعد جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں اگلے چار ماہ پاکستان کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں۔

آئندہ صدارتی اور عام انتخابات کو پاکستان کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈونلڈ میکنن نے کہا کہ پچھلے آٹھ سالوں میں پاکستان نے جمہوریت کی راہ پر کافی فاصلہ طے کیا ہے۔ گذشتہ آٹھ سالوں میں پاکستان میں کافی ترقی ہوئی ہے جو کہ اچھی نشانی ہے لیکن ان کے مطابق لوگوں کے سامنے اب بھی کئی چیلنجز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اس مرحلے پر ہم صرف اس بات کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ تمام جاری معاملات جس حد تک ممکن ہو بغیر کسی رکاوٹ کے انجام پائیں اور لوگ قانون کی حکمرانی، سپریم کورٹ کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور تمام سیاسی جماعتوں کے انتخابات میں حصہ لینے کے حق کو تسلیم کریں اور اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ جب انتخابات ہوں گے تو تمام دنیا ہمیں دیکھ رہی ہوگی’۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ فوج کی مداخلت کے اعتبار سے کافی بھرپور رہی ہے اور اس وقت بھی صدر کے انتخاب کے حوالے سے اہم امور اعلٰی عدالتوں کے زیرغور ہیں۔

پریس کانفرنس سے پہلے دولت مشترکے کے سیکرٹری جنرل نے حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور ملک کی سیاسی صورتحال، آئندہ صدارتی اور عام انتخابات کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر جانا۔

مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان نے ڈان میکنن سے ملاقات کے بعد ان سے ہونے والی بات چیت کےبارے میں کہا
ان کی جماعت نے دولتِ مشترکہ پر واضح کیا کہ چار دن پہلے آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم متفقہ طور پر یہ استعفے دے دیں گے تو آئندہ ایک دو دنوں میں ہم نے الائنس کی میٹلنگ بلا کر تمام جو آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے سگنیٹریز ہیں، وہ باضابطہ طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے انشاء اللہ استعفے دے دیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے پارٹی رہنماؤں راجہ پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر اور سینیٹر انور بیگ کے ہمراہ دولت مشترکہ کے وفد سے ملاقات کی اور صدر جنرل پرویز مشرف کے دوبارہ وردی میں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے حوالے سے اپنی جماعت کے خدشات سے ان کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہم نے بتایا کہ جو عدالتی فیصلے سے پہلے ہی شیڈول آ گیا ہے اور جس طریقے سے اپنے آپ کو جو ہے مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ غیرآئینی ہے'

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ صرف ان انتخابات کے نتیجے میں تو جمہوریت نہیں آ جانی، اس کے لیے تو گرینڈ نیشنل ری کنسلیئشن کا ہونا ازحد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے روایتی انداز سے تحریک چلانے کے بجائے ڈائیلاگ کی بات کی، تاکہ پاکستان جو اس وقت مشکلات کا شکار ہے، وہ مزید مشکلات سے دوچار نہ ہو جائے اور یہاں پر کہیں وہ پہلے جیسی صورت جو کبھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے موقع پر پیدا ہوئی تھی جس میں تحریک جو ہے لیڈروں کے ہاتھ میں نہیں تھی، ایسا موقع پاکستان میں نہ آ جائے۔ ہم اسے نظرانداز کرنا چاہتے ہیں۔

’ ہم چاہتے ہیں کہ اس صورتحال سے پاکستان کو بچایا جائے۔ اسی لیے ہم نے ڈائیلاگ کا دروازہ کھولا لیکن اتفاق سے ہمارے ڈائیلاگ کامیاب نہیں ہوئے اور اگر یہ ڈائیلاگ کامیاب نہیں ہوئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایک غیرآئینی طور پر صدر کو تسلیم کر لیں یا وردی کو تسلیم کر لیں’

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ ان کی پارٹی ایک باوردی صدر کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد