پاکستان میں چار ماہ اہم ہیں: مکینن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈونلڈ میکنن نے حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنماؤں اور چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے بعد جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں اگلے چار ماہ پاکستان کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں۔ آئندہ صدارتی اور عام انتخابات کو پاکستان کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈونلڈ میکنن نے کہا کہ پچھلے آٹھ سالوں میں پاکستان نے جمہوریت کی راہ پر کافی فاصلہ طے کیا ہے۔ گذشتہ آٹھ سالوں میں پاکستان میں کافی ترقی ہوئی ہے جو کہ اچھی نشانی ہے لیکن ان کے مطابق لوگوں کے سامنے اب بھی کئی چیلنجز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اس مرحلے پر ہم صرف اس بات کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ تمام جاری معاملات جس حد تک ممکن ہو بغیر کسی رکاوٹ کے انجام پائیں اور لوگ قانون کی حکمرانی، سپریم کورٹ کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور تمام سیاسی جماعتوں کے انتخابات میں حصہ لینے کے حق کو تسلیم کریں اور اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ جب انتخابات ہوں گے تو تمام دنیا ہمیں دیکھ رہی ہوگی’۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ فوج کی مداخلت کے اعتبار سے کافی بھرپور رہی ہے اور اس وقت بھی صدر کے انتخاب کے حوالے سے اہم امور اعلٰی عدالتوں کے زیرغور ہیں۔ پریس کانفرنس سے پہلے دولت مشترکے کے سیکرٹری جنرل نے حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور ملک کی سیاسی صورتحال، آئندہ صدارتی اور عام انتخابات کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر جانا۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان نے ڈان میکنن سے ملاقات کے بعد ان سے ہونے والی بات چیت کےبارے میں کہا پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے پارٹی رہنماؤں راجہ پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر اور سینیٹر انور بیگ کے ہمراہ دولت مشترکہ کے وفد سے ملاقات کی اور صدر جنرل پرویز مشرف کے دوبارہ وردی میں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے حوالے سے اپنی جماعت کے خدشات سے ان کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم نے بتایا کہ جو عدالتی فیصلے سے پہلے ہی شیڈول آ گیا ہے اور جس طریقے سے اپنے آپ کو جو ہے مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ غیرآئینی ہے' انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ صرف ان انتخابات کے نتیجے میں تو جمہوریت نہیں آ جانی، اس کے لیے تو گرینڈ نیشنل ری کنسلیئشن کا ہونا ازحد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے روایتی انداز سے تحریک چلانے کے بجائے ڈائیلاگ کی بات کی، تاکہ پاکستان جو اس وقت مشکلات کا شکار ہے، وہ مزید مشکلات سے دوچار نہ ہو جائے اور یہاں پر کہیں وہ پہلے جیسی صورت جو کبھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے موقع پر پیدا ہوئی تھی جس میں تحریک جو ہے لیڈروں کے ہاتھ میں نہیں تھی، ایسا موقع پاکستان میں نہ آ جائے۔ ہم اسے نظرانداز کرنا چاہتے ہیں۔ ’ ہم چاہتے ہیں کہ اس صورتحال سے پاکستان کو بچایا جائے۔ اسی لیے ہم نے ڈائیلاگ کا دروازہ کھولا لیکن اتفاق سے ہمارے ڈائیلاگ کامیاب نہیں ہوئے اور اگر یہ ڈائیلاگ کامیاب نہیں ہوئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایک غیرآئینی طور پر صدر کو تسلیم کر لیں یا وردی کو تسلیم کر لیں’ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ ان کی پارٹی ایک باوردی صدر کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرے گی۔ | اسی بارے میں ڈکی چینی کا پاکستان کا اچانک دورہ26 February, 2007 | پاکستان ڈکٹیشن نہیں لیں گے: دفترِ خارجہ26 February, 2007 | پاکستان امریکہ پاکستان میں جمہوریت کاخواہاں14 June, 2007 | پاکستان رچرڈ باؤچر کوئٹہ کے دورے پر14 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||