BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 August, 2007, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کے لیے چوری چھوڑ دی‘

لاکھوں مہاجرین نے ہزاروں میل پیدل ہجرت کی
1946 میں جب پہلی بار مسلم لیگ پیروں اور زمینداروں کی مدد سے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اسی وقت مسلمانوں کو یہ یقین ہوگیا کہ دنیا کے نقشے پر ایک نئی اسلامی مملکت وجود میں آرہی ہے جس کا نام پاکستان رکھاگیا۔

مشہور مؤرخ ایئن ٹیلبٹ لکھتے ہیں کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا مگر یہ ملک اب تک حقیقت میں نہ اسلامی مملکت بنا اور نہ یہاں سیکولرازم کی جڑیں ہی پیوست ہوئیں۔

پاکستان کی بیشتر خواتین سمجھتی ہیں کہ کروڑوں مسلمانوں نے جس مملکت کا خواب دیکھا تھا وہ اب تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا بلکہ ساٹھ برس گزر جانے کے بعد بھی ملک یہ تعین نہیں کرسکا کہ وہ کس طرح کا نظام چاہتا ہے۔

کراچی کی بزرگ خاتون فاطمہ بی بی نے سینتالیس میں آگرہ سے ہزاروں خاندانوں کے ہمراہ ہجرت کی وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے نہ صرف اپنے عزیز و اقارب کو آگرہ میں چھوڑا بلکہ ماں سے چیزیں چرانے کی عادت سے بھی چھٹکارہ پایا کیونکہ پاکستان کا مطلب پاک و صاف سرزمین کے طور پر لیا جانے لگا تھا۔

قرار داد پاکستان لاہور میں انیس سو چالیس میں پیش کی گئی
’ّجب میر ی ماں نے کہا کہ ہم سب پاکستان جارہے ہیں تو میں نے ماں سے پوچھا وہاں کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا مسلمانوں کو اسلامی ملک ملا ہے جہاں کوئی چوری نہیں کر سکتا یا جھوٹ بول سکتا ہے، کوئی مجرم نہیں بنے گا اور نہ کوئی کس کا حق چھینے گا۔ میں ماں کے پیسے چرایا کرتی تھی پاکستان کا نام سنتے ہی میں نے چوری کرنا چھوڑ دیا مگر پھر ساری عمر اپنے ہی ملک میں چوروں چکاروں کی تعداد بڑھتی دیکھی۔‘

فاطمہ بی بی کہتی ہیں کچھ سال بعد ہی پاکستان میں انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی اور اسلام محض ایک نعرہ بن گیا۔

سیکولر خیالات کی خواتین سمجھتیں ہیں کہ بانی پاکستان نے اسلام کی بنیاد پر ملک بنایا مگر انہوں نے سیکولر روایات پر چلنے کی تاکید بھی کی۔

رام پور بھارت کی رشیدہ خاتون کا جواب کراچی میں آباد ہیں کہنا ہے کہ مدینے کے بعد دوسری مقدس جگہ پاکستان بنا مگر یہاں کے عوام نے اس کی قدر نہیں کی بلکہ اسلام اورسیکولرازم کی بحث میں اس ملک کے وسائل کو برباد کیا۔

ہندوستان کی تقسیم کا منصوبہ جلد بازی میں بنایا گیا

گزشتہ ساٹھ برسوں میں کئی اسلامی تحریکیں پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے کوشاں رہیں مگر ساتھ ہی اعتدال پسندوں کا حلقہ بھی سیکولرازم کی آبیاری کرتا رہا جنہیں بعض مذہبی جماعتوں کے عتاب کا شکار بھی ہونا پڑا مگر حال ہی میں جامعہ حفصہ کے واقعے نے دو نظریات سے وابستہ حلقوں میں یہ خلیج مزید وسیع کردی ہے۔

جماعت اسلامی سے وابستہ کئی خواتین نے مجھے بتایا کہ اگر نفاذ شریعت کے لیے طاقت کا استعمال بھی کرنا پڑا تو وہ اس سے اجتناب نہیں کریں گی کیونکہ پاکستانی معاشرے میں بڑے پیمانے پر بے راہ روی اور مغربیت بڑھتی جا رہی ہے۔

پاکستان کی پڑھی لکھی نئی نسل سے وابستہ لڑکیاں اس زور زبردستی کو مسترد کرتی ہیں اور وہ اپنے اوپر کوئی بھی پالیسی مسلط نہیں دیکھنا چاہتی۔ تاہم کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اسلام اور سیکوالرزم کے درمیان یہ بحث اگلے ساٹھ برسوں میں کیا رنگ لائے گی۔

اسی بارے میں
پاکستانی سنیما کے ساٹھ برس
18 August, 2007 | فن فنکار
ساٹھ برس اور حافظہ
14 August, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد