’پاکستان کے لیے چوری چھوڑ دی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1946 میں جب پہلی بار مسلم لیگ پیروں اور زمینداروں کی مدد سے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اسی وقت مسلمانوں کو یہ یقین ہوگیا کہ دنیا کے نقشے پر ایک نئی اسلامی مملکت وجود میں آرہی ہے جس کا نام پاکستان رکھاگیا۔ مشہور مؤرخ ایئن ٹیلبٹ لکھتے ہیں کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا مگر یہ ملک اب تک حقیقت میں نہ اسلامی مملکت بنا اور نہ یہاں سیکولرازم کی جڑیں ہی پیوست ہوئیں۔ پاکستان کی بیشتر خواتین سمجھتی ہیں کہ کروڑوں مسلمانوں نے جس مملکت کا خواب دیکھا تھا وہ اب تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا بلکہ ساٹھ برس گزر جانے کے بعد بھی ملک یہ تعین نہیں کرسکا کہ وہ کس طرح کا نظام چاہتا ہے۔ کراچی کی بزرگ خاتون فاطمہ بی بی نے سینتالیس میں آگرہ سے ہزاروں خاندانوں کے ہمراہ ہجرت کی وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے نہ صرف اپنے عزیز و اقارب کو آگرہ میں چھوڑا بلکہ ماں سے چیزیں چرانے کی عادت سے بھی چھٹکارہ پایا کیونکہ پاکستان کا مطلب پاک و صاف سرزمین کے طور پر لیا جانے لگا تھا۔
فاطمہ بی بی کہتی ہیں کچھ سال بعد ہی پاکستان میں انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی اور اسلام محض ایک نعرہ بن گیا۔ سیکولر خیالات کی خواتین سمجھتیں ہیں کہ بانی پاکستان نے اسلام کی بنیاد پر ملک بنایا مگر انہوں نے سیکولر روایات پر چلنے کی تاکید بھی کی۔ رام پور بھارت کی رشیدہ خاتون کا جواب کراچی میں آباد ہیں کہنا ہے کہ مدینے کے بعد دوسری مقدس جگہ پاکستان بنا مگر یہاں کے عوام نے اس کی قدر نہیں کی بلکہ اسلام اورسیکولرازم کی بحث میں اس ملک کے وسائل کو برباد کیا۔
گزشتہ ساٹھ برسوں میں کئی اسلامی تحریکیں پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے کوشاں رہیں مگر ساتھ ہی اعتدال پسندوں کا حلقہ بھی سیکولرازم کی آبیاری کرتا رہا جنہیں بعض مذہبی جماعتوں کے عتاب کا شکار بھی ہونا پڑا مگر حال ہی میں جامعہ حفصہ کے واقعے نے دو نظریات سے وابستہ حلقوں میں یہ خلیج مزید وسیع کردی ہے۔ جماعت اسلامی سے وابستہ کئی خواتین نے مجھے بتایا کہ اگر نفاذ شریعت کے لیے طاقت کا استعمال بھی کرنا پڑا تو وہ اس سے اجتناب نہیں کریں گی کیونکہ پاکستانی معاشرے میں بڑے پیمانے پر بے راہ روی اور مغربیت بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان کی پڑھی لکھی نئی نسل سے وابستہ لڑکیاں اس زور زبردستی کو مسترد کرتی ہیں اور وہ اپنے اوپر کوئی بھی پالیسی مسلط نہیں دیکھنا چاہتی۔ تاہم کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اسلام اور سیکوالرزم کے درمیان یہ بحث اگلے ساٹھ برسوں میں کیا رنگ لائے گی۔ | اسی بارے میں ساٹھ سال بعد، عدم تحفظ کا خوف13 August, 2007 | پاکستان سیاستداں ناکام، کھلاڑی کامیاب 14 August, 2007 | کھیل پاکستانی سنیما کے ساٹھ برس18 August, 2007 | فن فنکار ساٹھ برس اور حافظہ14 August, 2007 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||