بدایوں اور کراچی کا رابطہ ٹوٹ گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عبدالماجد اقبال قادری کو جون 1947 کے تقسیم ہند کے منصوبے کی خبر اس وقت ملی جب وہ ایران میں سفر کر رہے تھے۔ وہ اکیس سالہ نوجوان تھے۔ اب ان کی عمر اکیاسی سال کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں: ’میں زیارت کے لیے اپنے والد کے ہمراہ عراق کے شہر بصرہ گیا ہوا تھا۔ ہندوستان واپسی کے راستے میں ہم ایران کے شہر زاہدان میں رکے ہوئے تھے۔ یہ تین جون کی تاریخ تھی۔‘ جب دوسری صبح وہ ایران سے ٹرین کے ذریعے بلوچستان میں داخل ہوئے تو عوام کے اندر آزادی کا جوش و خروش تھا۔ اس دن کا ایک منظر عبدالماجد کے ذہن پر نقش کرگیا۔ وہ سندھ میں ایک ریلوے اسٹیشن پر تھے جہاں کچھ مقامی لوگوں نے ایک ہنددو دکاندار سے چائے خریدی اور اسے پیسہ دینے سے انکار کردیا۔ ’ان لوگوں نے اس غریب دکاندار سے کہا، یہ اب پاکستان ہے، ہندوؤں کو پیسے نہیں ملیں گے۔‘
شمالی ہندوستان کے شہر بدایوں سے تعلق رکھنے والے عبدالماجد کے والد مولانا عبدالقدیر بدایونی انیس سو بیس کے عشرے میں حسرت موہانی اور سی آر داس جیسے باغیوں سے منسلک رہے تھے۔ جب ان پر برطانوی حکومت کا دباؤ بڑھنے لگا تو ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے حیدرآباد دکن جانے کا مشورہ دیا جہاں کے نظام نے انہیں عدالت میں نوکری کی پیشکش کی ہوئی تھی۔ چھ سالہ عبدالماجد کا خاندان 1932 میں حیدرآباد چلا گیا۔ وہ اپنا گھر بار اور مدرسہ ایک رشتہ دار کے حوالے کرگئے۔ عبدالماجد کی پرورش حیدرآباد دکن میں وزراء اور نوابوں کے درمیان ہوئی اور انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔
وہ کہتے ہیں: ’حیدرآباد ایک ہندو اکثریت والی ریاست تھی اور ہماری جان کو خطرہ تھا۔ لیکن میرے ایک انکل نے جو پاکستان جاچکے تھے اور پاکستانی وفد کے رکن کی حیثیت سے ہندوستان سے اثاثوں کی تقسیم کے بارے میں بات چیت کے لیے دہلی آئے تھے، مجھے نکلنے میں مدد کی۔‘ عبدالماجد ایک بھتیجے کے ہمراہ دسمبر 1947 میں کراچی پہنچے، جبکہ ان کے خاندان کے دیگر لوگ 1950 تک حیدرآباد میں رہے اور پھر بدایوں چلے گئے۔ ساٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی وہ اپنے خاندان کی تقسیم کو بھلا نہیں سکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میں یہاں خوش ہوں۔ میرے بچے بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ میرے پوتے پوتیاں بھی کامیابی کے راستے پر ہیں۔ لیکن میرے ذہن کے کسی گوشے میں ایک پچھتاوا ہے۔‘ انہیں اس پچھتاوے کا احساس پہلی بار 1956 میں ہوا۔
’ویزہ میرے گھر آیا اور اس کے ساتھ یہ ہدایت بھی کہ میں بدایوں جانے سے قبل مسٹر آزاد سے دہلی میں ضرور ملوں۔‘ عبدالماجد نے مولانا آزاد سے ملاقات کی اور انہیں بہت کچھ سننے کو ملا۔ ’انہوں نے مجھے بہت لتاڑا کہ والد ہندوستان میں مر رہے ہیں اور تم پاکستان چلے گئے۔ مجھے شرم محسوس ہوئی لیکن جو کچھ ہونا تھا ہوگیا تھا۔‘ اس سے قبل وہ 1949 میں بھی بدایوں گئے جہاں ان کی شادی ہوئی تھی اور وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ واپس کراچی آگئے تھے۔ کراچی میں انہوں نے کاروبار شروع کیا تھا۔ ’میں نے بہت کچھ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوتا رہا۔‘ اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ ہر سال اپنی ماں سے ملاقات کے لیے بدایوں جاتے رہے۔ سن 1980 میں وہ بھی وفات پاگئیں۔ اس کے بعد سے ان کے ہندوستان کے دورے کم ہوتے گئے۔ ’جب میری ماں نہیں رہیں، مجھے احساس ہوا کہ ایک اہم رابطہ ختم ہوگیا۔ بدایوں اور کراچی کے درمیان چکر لگانے کی طاقت بھی کم ہونے لگی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||