غازی، ساتھی تہہ خانے میں موجود | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف بارہ گھنٹے سے جاری آپریشن کے باوجود سکیورٹی فورسز کے دستے مسجد کے مہتمم عبدالرشید غازی تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کے مطابق مسجد اور مدرسے کے پچاسی فیصد حصے پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور انہوں نے عبدالرشید غازی اور شدت پسندوں کو مدرسے کے جنوبی حصوں تک محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرشید غازی یا تومدرسے کے جنوبی حصے میں واقع تہہ خانوں یا پھر اپنی مدرسے سے ملحقہ اپنی رہائش گاہ میں موجود ہیں۔ حکام کے مطابق پچاس کے قریب شدت پسندوں نے ہتھیارڈالے دیے ہیں اور ان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آپریشن کرنے والے فوجی دستوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عبدالرشید غازی کو گرفتار کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں۔ آپریشن کے آخری مراحل میں جامعہ حفصہ کے عقبی حصوں سے شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے اُنہوں نے چار بار غازی عبدالرشید کو کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو فوج کے حوالے کر دیں۔ جامعہ حفصہ میں اب بھی فائرنگ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ کور کمانڈر راولپنڈی جنرل طارق مجید نے علاقے کا دورہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں حکومتی وعدوں کا جائزہ لے رہے ہیں22 April, 2007 | پاکستان بڑے بھائی نہیں مانتے:غازی21 May, 2007 | پاکستان ’نہ مہلت کا علم ہے نہ کسی کو روکا‘04 July, 2007 | پاکستان ’تیس طالبات اجتماعی قبر میں دفنائیں‘07 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||