چرواہے کا خواب: بکرا منڈی، دوست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سولہ سالہ چرواہے داؤد کوچی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ان کے پاس ایک گاڑی ہو اور وہ اس میں اپنے دوستوں سے ملنے کوئٹہ کی بکرا منڈی جائیں۔ داؤد کوچی کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک کے جلوگیر میں اپنے اونٹ چراتے ہیں اور اونٹ چرانے سے بہت تنگ آ چکے ہیں۔ دادو کہتے ہیں وہ یہ کام ’بچپن سے کر رہے ہیں ’جب میں بہت چھوٹا تھا اور تو والد کے ساتھ اونٹ چرانے جاتا تھا‘ لیکن اب وہ اور ان کے کزن مل کر کچلاک جلوہ گیر کی پہاڑیوں میں تقریباً 50 کے قریب اونٹ چراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک مشکل کام ہے۔ سردی ہو یا گرمی، صبع سے شام تک دن ان ویرانوں میں اونٹوں کے پیچھے بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے اور اگر کبھی کوئی اونٹ کسی کی فصل میں چلا جاتا ہے تو پھر بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ غلطی اونٹ کرتا ہے اور مار ہمیں کھانی پڑتی ہے‘۔
وہ مہینے میں ایک یا دو دن چھٹی کرتے ہیں اور یہ دن بہت خوشی کا ہوتا ہے کیونکہ انہیں دوپہر کا کھانا گھر پر اور آرام سے کھانے کا موقع ملتا ہے۔ چھٹی کے دن گھر والے بھی ان کا زیادہ خیال رکھتے ہیں کبھی کبھار تو دیسی گھی بھی کھانے کو مل جاتا ہے جسے وہ چینی ڈال کر گرم روٹی کےساتھ کھاتے ہیں اور پھر لسی پی کر آرام سے سو جاتے ہیں۔ جب کہ عام دنوں میں دوپہر کو رات کی بچی ہوئی روکھی سوکھی روٹی لسی کے ساتھ کھاتے ہیں اور اگر اونٹوں کو اس دوران کوئی شرارت سوجھ جائے تو یہ مزا بھی جاتا رہتا ہے۔ داؤد کے مطابق وہ اونٹ چرانے کی مزدوری دو سو روپے فی اونٹ ماہانہ لیتے ہیں مگر اونٹوں کے بچوں کے پیسے اس وقت تک نہیں لیے جا تے جب تک بچہ ایک سال کا نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ ان دنوں ان کی آمدنی کم ہے کیونکہ ریوڑ میں بیس سے زیادہ بچے ہیں۔ داؤد کوچی سے جب شہر بھی جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی بالکل ویسی ہی جیسی کسی تعلیم یافتہ پاکستانی کے چہرے پر اس سوال کے بعد آ سکتی ہے جس سے یورپ یا امریکہ جانے کے بارے میں دریافت کیا گیا ہو۔ داؤد نے مسکراتے ہوئے کہاکہ وہ مہینے دو مہینے میں کسی ایک دن شہرجاتے ہیں۔ شہر کی ہر چیز انہیں خوبصورت لگتی ہے اور ہر بار یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اونٹ چرانے کا کا م چھوڑ کر شہر ہی میں کوئی محنت مزدوری شروع کر دیں تا کہ ان کے پاس بھی ایک گاڑی ہو جس میں بیٹھ کر جب بھی ان کا دل کہیں جانے کو چاہے جا سکیں۔
اونٹوں کے بارے میں داؤد ایک بڑے ماہرکی طرح با ت کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اونٹوں کی تین بڑی قسمیں ہوتی ہیں۔ جس میں سفید کالا اور سرخ پاکستان اور افغانستان میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سرخ اونٹ کی قیمت 30 سے 40 ہزار اور کالے اونٹ کی قیمت 50 سے 60 ہزار ہوتی ہے لیکن لوگ سفید اونٹ کو زیادہ پسند ہیں اگرچہ وہ بار برداری میں کمزور ہوتا ہے۔ داؤد کوچی سے جب یہ پوچھا گیا کہ ان کا سارا دن کیسے گزرتا ہے؟ کیا کبھی بوریت نہیں ہوتی ہے؟ توان کا کہنا تھا کہ کہ عموماً ان کے کزن بھی ساتھ ہوتے ہیں لیکن آج ان کی چھٹی ہے لیکن جب وہ ساتھ ہوتے تو ہم دونوں باتیں بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امیر لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی زندگی کتنی اچھی ہوگی جو مکانوں میں رہتے ہیں۔ وہ لڑکے کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ جن کو والدین انہیں ہر صبع اونٹ چرانے کے لیے نہیں بلکہ سکول بھیجتے ہیں۔
جب ان سے کہا گیا کہ ’گاڑیوں والے بھی اپنی زندگی سے خوش نہیں‘۔ توانہوں نے برجستہ کہا کہ کاش ایسا ہو سکتا کہ ہماری یہ تکلیف والی زندگی انہیں اور ان کی آرام والی زندگی ہمیں مل جاتی پھر انہیں ضرور احساس ہوتا کہ راحت کیا چیز ہوتی ہے۔ جب میں داؤد سے گفتگو کر رہا تھا تو اس وقت ان کے ہاتھوں میں لکڑی اور پلاسٹک کے ڈبےکا بنا ہو رباب تھا جوانہوں نے خود بنایا تھا۔ میں نے پوچھا کہ ’یہ رباب آپ کس وقت بجاتے ہیں‘۔ توانہوں نے کہا کہ جب دوپہر کواونٹوں کو جمع کر کے ایک جگہ بٹھا دیتے ہیں پھر اسے تھوڑی دیر کے لیے بجاتے ہیں۔ میری فرمائش پر انہوں نے رباب بجاتے ہوئے پشتو کے دومصرعے بھی گائے جس کہ بول تھے: ’محبوبہ تم کہاں ہو، تمہارا محبوب اس دشت میں اونٹ چرا رہا ہے‘۔ پھرمحبوبہ کی طرف سےجوابی مصرع کہا کہ ’سرخ اونٹوں کے رکھوالے واپسی پر میرے لیے دو نتھ (چارگل) لانا‘۔ داؤد بہت جلدی میں تھے۔ کیونکہ ان کےاونٹ چارے کی تلاش میں اِدھر اُدھر جا رہے تھے لیکن میں نے جلدی میں ان سے آخری سوال کیا ’شہر میں آپ کہاں کہاں جاتے ہیں؟‘ تو انہوں نے واضع جواب سے گریز کیا۔ پھر میں پوچھا کہ سنیما میں فلم دیکھنے تو ضرور جاتے ہوں گے۔ تو انہوں نے توبہ کے انداز میں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس فلم دیکھنے کے پیسےکہاں ہوتے ہیں۔ ہماری زیادہ سے زیادہ عیاشی تو بس یہ ہوتی ہے کہ کوئٹہ کی بکرا منڈی چلے جائیں، وہاں دوستوں سے ملاقات ہو اور پھر شام کو گھر آ جائیں۔اس کے ساتھ ہی داؤد اپنے اونٹوں کی طرف بھاگ گئے۔ | اسی بارے میں جنگلی قبائل کے حقوق کا بل پاس19 December, 2006 | انڈیا لوگوں نے تیندوا مار دیا18 January, 2007 | انڈیا سپیرے تو پابند لیکن چڑیا گھر آزاد13 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||