پشاور: ڈائریکٹر اطلاعات قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبائی دارالحکومت پشاور میں نامعلوم مسلح افراد نے صوبائی محکمۂ اطلاعات کے ڈائریکٹر کو ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کو پشاور کے علاقے ہشت نگری میں جھنڈا بازار کے مقام پر پیش آیا۔ ایس ایس پی پشاور افتخار خان کے مطابق محکمۂ اطلاعات کے ڈائریکٹر سید مہدی حسین گھر سے دفتر جا رہے تھے کہ راستے میں پہلے سے گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں بعد ازاں قریبی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ کر ہلاک ہو گئے۔ اکیاون سال کے مہدی حسین محکمۂ اطلاعات کے قابل ترین افسران میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے خیبر میڈیکل کالج لائی گئی ہے۔ پشاور پولیس کے سربراہ عبدالمجید نے بتایا کہ محکمۂ اطلاعات کے ڈائریکٹر مہدی حسین کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم ایس ایس پی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں بنائی گئی ہے جو آئندہ چند دنوں تک اپنی رپورٹ پیش کردےگی۔ انہوں نے اس تاثر کو بالکل بے بنیاد قرار دیا کہ کہ مہدی حسین کا قتل فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتول ایک اعتدال پسند افسر تھے جن کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مہدی حسین کا تعلق پشاور کے ایک سادات خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے عملی زندگی کا آغاز 1970 میں پشاور سے بطور صحافی کیا۔ وہ چار سال تک مقامی اردو روزنامہ مشرق سے بحثیت فیچر نگار منسلک رہے۔ 1974 میں انہوں نے محکمۂ اطلاعات صوبہ سرحد میں بطور اسسٹنٹ انفارمیشن افسر کے کام شروع کیا۔ وہ گورنر سرحد کے پریس سیکرٹری بھی رہے۔ 1999 میں انہیں صوبائی مکمۂ طلاعات میں بطور ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ | اسی بارے میں پشاور دھماکے، کوئی گرفتاری نہیں31 May, 2007 | پاکستان پشاور میں دھماکہ، نو زخمی29 May, 2007 | پاکستان پشاور: پیر سے پیہہ جام ہڑتال12 May, 2007 | پاکستان پشاور: سی ڈی سنٹر کے باہر دھماکہ18 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||