BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 April, 2007, 19:20 GMT 00:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈبل شاہ کا معاملہ سیاسی تنازع بن گیا

احتجاج
سبط الحسن کی گرفتاری کے خلاف گوجرانوالہ کے مختلف مقامات پر احتجاج کیا گیا
متبادل بنکنگ کا نظام چلانے کےالزام میں گرفتار سبط الحسن المعروف ڈبل شاہ کامعاملہ گوجرانوالہ اور اس کے گردونواح میں ایک سیاسی تنازعہ کی شکل صورت اختیار کرگیا ہے۔

پولیس جن ہزاروں لوگوں کو متاثرین قرار دیتی ہے ان کی بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ڈبل شاہ کو سیاسی وجوہ کی بنا پر گرفتار کیا گیا۔

ڈبل شاہ کے متاثرین گوجرانوالہ ، گجرات ،سیالکوٹ ، وزیر آباد اور سمبڑیال تک پھیلے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رقوم دوگنی کرکے وہ روز بروز عوام میں مقبول ہو رہے تھے اور یہی مقبولیت ان کی گرفتاری کا سبب بن گئی۔

حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والی وزیر آباد کی ایک خاتون جنرل کونسلر بیگم انور تبسم نے کہا کہ وہ پارٹی کی غدار نہیں ہیں لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ ڈبل شاہ بےگناہ ہیں اور انہیں ایک سازش کے تحت گرفتار کیا گیا۔ لیڈی جنرل کونسلر نے کہا اس گرفتاری میں کئی سیاسی آتے نام ہیں جو وہ بعد میں بتائیں گی۔انہوں نے ڈبل شاہ کی جان کو خطرے میں بھی قرار دیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈْبل شاہ کا ماضی بے داغ ہے انہوں نے رقوم ڈبل کروانے کے علاوہ لوگوں کی کھلے دل سے امداد کی اور ابھی تک انہوں نے اپنا ایک بھی وعدہ نہیں توڑا ہے۔

بہرحال اس بات کا امکان موجود تھا کہ عام انتخابات میں وہ خود یا ان کے نامزد کردہ امیدوار جیت سکتے تھے اسی لیے کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ڈبل شاہ کی گرفتاری میں مقامی بااثر سیاستدانوں کا ہاتھ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکمران مسلم لیگ کے ایک بااثر سیاستدان حامد ناصر چٹھہ کے بیٹے اورگوجرانوالہ کے ضلعی ناظم فیاض چٹھہ کا کہنا تھا کہ ڈبل شاہ کی گرفتاری میں ان کے خاندان کا ہاتھ نہیں کیونکہ پولیس اور نیب ایسی کارروائی کسی کے کہنے پر نہیں کرتی۔

 ڈبل شاہ کے متاثرین گوجرانوالہ ، گجرات ،سیالکوٹ ، وزیر آباد اور سمبڑیال تک پھیلے ہیں جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رقوم دوگنی کرکے وہ روز بروز عوام میں مقبول ہو رہے تھے اور یہی مقبولیت ان کی گرفتاری کا سبب بن گئی۔

ادھر متاثرین کی بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ڈبل شاہ کی گرفتاری سے ان کی دی ہوئی رقم داؤ پر لگ گئی ہے اور چونکہ ان نزدیک یہ گرفتاری سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہوئی اس لیے مقامی سیاستدان اس کے ذمہ دار ہیں۔

ضلعی ناظم نے کہا کہ لوگوں نے ان سے پوچھ کر ڈبل شاہ کے پاس رقم جمع نہیں کروائی اور اب وہ کوشش کر رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ریکوری ہوسکے اور متاثرین کو ان کی رقم واپس مل سکے لیکن وہ رقوم کی واپسی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے تھا کہ دنیا میں ایسا کوئی کاروبار نہیں ہے جہاں پندرہ روز کے اندر رقم دوگنی کر کے واپس کی جائے۔

انہی کی پارٹی کے ایک رکن پنجاب اسمبلی عظیم نوری نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں اپنی اور اپنی پارٹی کی پوزیشن کی وضاحت کی تھی اور کہا تھا کہ ڈبل شاہ کو ان کی پارٹی نے نہیں گرفتار کرایا بلکہ اس نے خود اپنی گرفتاری پیش کی ہے۔

پاکستانی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جمعہ کو سبط الحسن عرف ڈبل شاہ کو مزید سات روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا ہے۔ پولیس نے ملزم کے خلاف متبادل بنکنگ کے علاوہ اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کروانے کے مقدمات درج کر رکھے ہیں۔

سبط الحسن عرف ڈبل شاہ کو مزید سات روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے

پولیس اور نیب نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ لوگوں کو رقم دوگنی کرنے کا جھانسہ دیکر لوٹنا چاہتے تھے۔ بنکنگ سیکٹر کے وکیل طارق عزیز کا کہنا ہے کہ اگر ڈبل شاہ نے کسی سے معاہدہ نہیں توڑا تو قانون کی نظر میں وہ بے گناہ ہیں انہوں نے کہا کہ قانون میں یہ خامی موجود ہے کہ جب تک ان کےخلاف کوئی شکایت کنندہ سامنے نہیں آتا وہ بے قصور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون میں موجود اسی ابہام کی وجہ سے متعدد بار عوام کو لوٹا گیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ شاید اسی وجہ سے ڈبل شاہ کو اپنی حراست میں لیے رکھنے کے لیے پولیس اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کروانے جیسے ناقابل ضمانت الزامات لگانے پڑے ہیں۔

ڈبل شاہ ایک ایسی شخصیت ہے جسے پولیس اور نیب ہزاروں افراد سے دھوکہ دہی اور فراڈ کا ملزم قرار دیتی ہے دوسری طرف مبینہ متاثرین کی بڑی تعداد اسے بےگناہ سمجتھی ہے۔

قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے حکام کاکہنا ہے کہ اب تک ڈبل شاہ سے ایک ارب روپے کی جائیداد اور کیش کی ریکوری کی جاچکی ہے لیکن ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی صرف ایک سو متاثرین نے نیب کے دفترکلیم داخل کیے ہیں ادھر پولیس سے صرف ساڑھے تین سو افراد نے رقوم کی واپسی کے لیے رجوع کیا۔

 اگر ڈبل شاہ نے کسی سے معاہدہ نہیں توڑا تو قانون کی نظر میں وہ بے گناہ ہیں۔ قانون میں یہ خامی موجود ہے کہ جب تک ان کےخلاف کوئی شکایت کنندہ سامنے نہیں آتا وہ بے قصور ہیں۔
وکیل بنکنگ سیکٹر

سوال یہ ہے کہ جب متاثرین کی تعداد ہزاروں میں ہے تو کلیم داخل کرنے والوں کی تعداد اتنی کم کیوں ہے؟ ایک متاثرہ شخص محمد شاہد نے کہا کہ لوگوں کو پولیس اور نیب پر اعتماد نہیں ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی رقوم کی واپسی بس ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ ڈبل شاہ رہا ہوکر باہر آجائے۔

نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایس ایم حسینن کا کہنا ہے کہ ڈبل شاہ اگر رہا ہوا تو اس کے ملک سے فرار ہونے کا خدشہ ہے اسی لیے اس کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اس کا نام سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر کے ملک بھر کے تمام ائرپورٹ پر پہنچا دیا گیا ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈبل شاہ سے برآمدگیوں کا سلسلہ جاری ہے اور جلد متاثرین کو ادائیگی شروع کردی جائے گی انہوں نے کہا کہ پولیس کے جسمانی ریمانڈ پورا ہونے کے بعد نیب اپنے قانون کے تحت ڈبل شاہ کو مزید نوے روز تک اپنی تحویل میں رکھ سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد