سوئی کارروائی، متضاد دعوے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ سوئی میں فوجی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے لیکن فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے کا کہنا ہے کہ ایک اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ فوجی ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ سوئی کارروائی کے دوران پینتیس فراریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھر بلوچستان کے شہر قلات میں گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔ سوئی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ لنجو صغاری کے علاقے سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں اور بڑی تعداد میں ایمبولینسیں دیکھی گئی ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے رہنما اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ بگٹی نے نا معلوم مقام سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ جمعرات کو صبح سویرے سیکیورٹی فورسز نے بھاری توپ خانے کے ساتھ سوئی سے پندرہ کلومیٹر دور لنجو صغاری کے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملے کیے جس پر مسلح قبائلیوں نے جوابی کارروائی کی۔ انھوں نے کہا کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا۔ براہمدغ بگٹی نے کہا کہ بگٹی قبائلیوں کے گھروں کو آگ لگائی جا رہی ہے اور اس کارروائی کے دوران ایک بگٹی ہلاک اورچار خواتین بچے زخمی ہوئے ہیں۔ سرکاری سطح پر ان نقصانات کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا لیکن اسلام آباد میں فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اس کارروائی کے دوران پینتیس فراریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ محکمے کے مطابق اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے جنرل مینیجر محمد نواز نے بتایا ہے کہ قلات کالج کے قریب نا معلوم افراد نے بڑی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس سے قلات شہر کو گیس کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔ | اسی بارے میں جے ڈبلو پی کے عہدیدار مستعفی28 October, 2006 | پاکستان دو بگٹی بہوؤں کے اثاثے منجمند 03 October, 2006 | پاکستان بگٹی کے بیٹے پر بغاوت کا مقدمہ23 November, 2006 | پاکستان بگٹی کی پوتیوں کے اکاونٹ منجمند21 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||