وزیرستان: دس غیر ملکی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں کم سے کم دس افراد جن میں اکثریت غیرملکیوں کی ہے مقامی قبائل کے ساتھ ایک لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد پندرہ ہے۔ پشاور میں ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس واقع کی رات گئے تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت ازبک بتائی جاتی ہے۔ اعظم ورسک کے تمام ٹیلیفون خراب ہونے کی وجہ سے مزید معلومات حاصل کرنے میں دقت پیش آ رہی ہے۔ اس لڑائی کی وجہ ابھی پوری طرح واضع نہیں ہوسکیں ہیں تاہم بعض اطلاعات کے مطابق ایک روز قبل مقامی قبائلیوں اور غیرملکی عسکریت پسندوں کے درمیان گولیوں کا معمولی تبادلہ ہوا تھا جس نے منگل کے روز زیادہ خطرناک شکل اختیار کر لی۔ اعظم ورسک جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریباً بارہ کلومیٹر مغرب میں افغانستان جانے والی سڑک پر واقع ایک قصبہ ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جون سن دو ہزار دو میں پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی اعظم ورسک کے علاقے میں ہی کی تھی۔ اس جھڑپ میں گیارہ سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ چھ ازبک اور چیچن جنگجو بھی مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ اس وقت درجنوں غیرملکیوں کے فرار ہونے جانے کی بھی اطلاعات تھیں۔ اعظم ورسک سے غیرملکیوں اور مقامی قبائل کے درمیان تناؤ کے یہ پہلی اطلاع ہے۔ اس سے قبل اس قسم کی کشیدگی شمالی وزیرستان کے میر علی کے علاقے میں مقامی قبائل اور غیرملکیوں کے درمیان پائے جانے کی خبریں آ چکی ہیں۔ | اسی بارے میں وانا: ازبکوں کی قید سے رہائی03 October, 2006 | پاکستان وانا: ازبک کی انتقامی کارروائی03 October, 2006 | پاکستان آپریشن مکمل، کئی غیر ملکی گرفتار24 February, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||