پائپ لائن:’راہداری‘ پر اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران سےگیس پائپ لائن بچھانے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ’ٹرانزٹ فیس‘ کا اختلافی معاملہ طے نہیں پا سکا ہے۔ دونوں ممالک کے مشترکہ ورکنگ گروپ کی دو روزہ، دو طرفہ بات چیت جمعہ کو ختم ہوئی۔ بات چیت مکمل ہونے کے بعد مشترکہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹرانزٹ فیس سمیت تمام امور کے بارے میں کاغذی کارروائی جون تک مکمل کر لی جائے گی اور جون میں تینوں ممالک کے پیٹرولیم کے وزراء کے اجلاس میں امکان ہے کہ ’فریم ورک ایگریمینٹ‘ اور مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا۔ مذاکرات میں بھارتی وفد کی قیادت سیکرٹری پیٹرولیم ایم ایس سری نواسن جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت ان کے ہم منصب احمد وقار نے کی۔ اجلاس میں ایران کی گیس ایکسپورٹ کمپنی کے جنرل مینیجر فتاح بیاتنی مبصر کے طور پر شریک رہے۔ بریفنگ میں احمد وقار نے کہا کہ پاکستان سے بھارت تک گیس پائپ لائن جانے کے معاوضے یعنی’ٹرانزٹ فیس‘ کے متعلق تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے اور جلد اس بارے میں اتفاق ہوجائے گا۔ انہوں نے تجاویز کی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن اتنا کہا کہ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ اس کا تعین مروجہ عالمی اصولوں اور طریقہ کار کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا دونوں ممالک نے فزیبلٹی سٹڈی کرانے اور پروجیکٹ کوآرڈینیٹر مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق فزیبلٹی پر چھ سے نو ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ احمد وقار کے مطابق فریقین میں طے پایا ہے کہ سن دو ہزار دس اور گیارہ تک اس منصوبے سے گیس کی فراہمی شروع ہوگی اور ابتدائی طور پر دو اعشاریہ ایک ارب کیوبک فٹ گیس روزانہ فراہم ہوگی جو دونوں ممالک میں مساوی بنیاد پر تقسیم ہوگی۔ ان کے مطابق دوسرے مرحلے میں اس پائپ لائن سے گیس کے مقدار کی فراہمی بڑھائی جائے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ سات ارب ڈالر کی لاگت کی اس مجوزہ پائپ لائن سے پاکستان کو روزانہ ڈھائی ارب کیوبک فٹ جبکہ بھارت کو تین اعشاریہ ایک ارب کیوبک فٹ گیس درکار ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جس گیس فیلڈ سے یہ پائپ لائن لی جارہی ہے اس کے ذخائر تیس برس تک کے ہیں۔ بلوچستان میں بدامنی کی وجہ گیس پائپ لائن کی حفاظت کے بارے میں احمد وقار نے کہا کہ پاکستان کی دیگر پائپ لائن بھی وہاں سے گزرتی ہیں اور ان کی حفاظت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گیس کی مقدار کی تقسیم، ٹرانسپورٹیشن ٹیرف، ٹرانزٹ فیس، مشترکہ اعلامیہ، بین الحکومتی معاہدوں، گیس کی خرید و فروخت کے معاہدوں، منصوبے کے ڈھانچے اور دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ بیان کے مطابق رواں سال وسط تک تمام معاملات کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا اور اس بارے میں مشترکہ گروپ کا آئندہ اجلاس مئی میں اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا۔ امریکہ کی جانب سے اس منصوبے کے خلاف دباؤ کے بارے میں سوال پر پاکستان اور بھارت کے نمائندوں نے کہا کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنے قومی مفادات کے مطابق ہی فیصلے کرتے ہیں۔ بھارتی وفد نے بعد میں پیٹرولیم کے وزیر امان اللہ خان جدون سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر نے کہا کہ گیس پائپ لائن پاکستان اور بھارت میں اعتماد سازی کا ایک بڑا اہم قدم ثابت ہوگا۔ | اسی بارے میں پاک، ایران گیس منصوبہ پربات چیت03 December, 2006 | پاکستان ’ایران سے انڈیا گیس لائن‘ رائلٹی09 June, 2006 | پاکستان ’گیس: قیمت کاجلد تعین کیاجائے‘26 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||