سندھ میں وکلاء کا بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ کی عدالت میں بم دھماکے کے خلاف سندھ کے تمام بڑے شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ، سٹی کورٹس اور ملیر کورٹ میں پیر کو وکلاء نے مقدمات کی پیروی نہیں کی اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں بھی وکلاء نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں اور کوئٹہ کے وکلاء سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر چوھدری افتخار جاوید کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے، اگر عدالتیں ہی محفوظ نہیں ہیں تو لوگوں کو تحفظ کا احساس کہاں سے مل سکتا ہے۔ وکلاء کی بائیکاٹ کی وجہ سے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو مقدمات کی سماعت ہوئے بغیر واپس بھیج دیا گیا۔ دو روز قبل کوئٹہ میں سینیئر سول جج کی عدالت میں دھماکے میں سینیئر سول جج عبدالواحد درانی اور سات وکیلوں سمیت سولہ افراد ہلاک اور چونتیس زخمی ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ دھماکے کے بعد 35 گرفتار18 February, 2007 | پاکستان کوئٹہ:گرفتاریاں، جنازے، سوگ18 February, 2007 | پاکستان ’حملہ آورکاسراسلام آباد جائے گا‘17 February, 2007 | پاکستان پولیس گاڑی پرحملہ، تین ہلاک17 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||